پاکستان کے سینئر اداکار خالد انعم نے حالیہ دنوں میں پاکستان میں ہونے والی عالیشان شادیوں پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور معاشی حالات کے تناظر میں تنقید کی ہے۔ انہوں نے شادیوں، شاپنگ مالز اور ریسٹورینٹس کی عیش و عشرت کو دیکھ کر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکا، جرمنی اور جاپان کو قرضہ فراہم کرتا ہے۔
خالد انعم نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستان میں ہر فرد اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کر رہا ہے اور “چادر سے دو سو فٹ باہر” ہے، جو کہ ایک حقیقی مسئلہ بن چکا ہے۔ اداکار نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی حالات کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کو اپنی زندگی کو سادہ اور آسان بنانے کی ضرورت ہے۔
ایک اور انسٹا پوسٹ میں خالد انعم نے زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم مشورہ بھی دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ “پیسے اتنے کمائیں کہ جب آپ بیمار ہوں تو بچے ڈاکٹر بلائیں، وکیل نہیں”۔ اس بیان کے ذریعے انہوں نے لوگوں کو مالی اور ذاتی زندگی میں توازن قائم رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو غیر ضروری شوق پورا کرنے کی بجائے زندگی کی ضروریات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
خالد انعم کی یہ باتیں معاشی دباؤ کے باوجود عیش و عشرت کے رجحان کے خلاف ایک سنجیدہ سوال اٹھاتی ہیں۔

Leave a Reply