بدھ کو لوئر کرم کے علاقے چھپری ریسٹ ہاؤس میں ضلعی انتظامیہ اور لوئر کرم کے عمائدین کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں عمائدین کی نمائندگی فرمان اللہ اور عادل استاد نے کی جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور کمانڈنٹ نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا مقصد لوئر کرم کے موجودہ حالات پر بات چیت کرنا اور قافلے کے اپر کرم میں گزرنے کے حوالے سے انتظامیہ سے تعاون حاصل کرنا تھا۔
ملاقات کے بعد حاجی محمد شریف نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے اپر کرم میں گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گزرنے کے لیے تعاون کی درخواست کی تھی، جس پر انسانی بنیادوں پر تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قافلہ اپر کرم پہنچ چکا ہے اور فی الحال صرف ضروری فوڈ آئٹمز لے جانے کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ عوام کو فوری طور پر امداد فراہم کی جا سکے۔
حاجی محمد شریف نے اس بات پر زور دیا کہ اس تعاون کو کمزوری نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ انتظامیہ کے ساتھ پرخلوص کوشش اور مسائل کے حل کا ثبوت تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بگن متاثرین کا پرامن دھرنا مندوری میں جاری رہے گا اور اس دوران انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔
محمد شریف نے اس موقع پر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں اسلحہ کے خلاف آپریشن کے لیے کسی کی رضامندی یا اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ دوسرا فریق خود اپنے بنکرز کو مسمار کرے اور اسلحہ جمع کرے تاکہ علاقے میں امن قائم ہو سکے۔
علاوہ ازیں، حاجی محمد شریف نے پاکستان کے جھنڈے کو جلانے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ بگن بازار جلانے والوں کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ ان واقعات میں ملوث کسی بھی فرد کی ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
وفد کے دیگر ارکان نے سرکاری حکام سے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ جلد از جلد نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، تاہم انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بگن بازار جلانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔

Leave a Reply