امریکی شہر لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ نے 6 ہزار سے زائد گھر اور عمارتیں راکھ کے ڈھیر میں بدل دیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس آگ نے 32 ہزار سے زائد ایکڑ رقبے پر وادیوں کو اجاڑ دیا۔
منگل سے شروع ہونے والی یہ آگ اب تک بے قابو ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس سانحے میں ہلاک ہونے والے افراد کی اصل تعداد کتنی ہو گی۔ آگ کی وجہ سے 1 لاکھ 50 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
آگ سے متاثرہ علاقوں میں خالی گھروں میں لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور پولیس نے اب تک گھروں میں ڈکیتی کرنے والے 20 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق خشک موسم اور تیز ہوا سے آگ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اگر آگ پر قابو نہ پایا گیا تو یہ واقعہ امریکی تاریخ کے بدترین قدرتی سانحات میں سے ایک بن سکتا ہے۔

Leave a Reply