متحدہ عرب امارات میں 2025 میں نافذ ہونے والے نئے فیملی قوانین کا اعلان کر دیا گیا ہے، جو اماراتی اور غیرملکی دونوں خاندانوں پر لاگو ہوں گے۔ ان قوانین کے تحت بچوں کے اماراتی قومی کارڈ اور پاسپورٹ کے غلط استعمال پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، فیملی قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے اور جیل کی سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
نئے فیملی قوانین میں بچوں کی تحویل کے حوالے سے اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ غیر مسلم ماؤں کو بھی بچوں کی تحویل کا حق دیا گیا ہے، اور 15 سال کے بچوں کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ بچوں کی تحویل کی عمر کی حد میں بھی توسیع کی گئی ہے، تاکہ بچوں کی بہتر دیکھ بھال اور ان کے مفاد کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ قوانین اماراتی معاشرتی اقدار اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے پیش نظر متعارف کروائے گئے ہیں اور اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوں گے۔ ان قوانین کا مقصد خاندانوں کے مابین بہتر تعلقات کو فروغ دینا اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنا ہے۔

Leave a Reply