لاس اینجلس کے حکام نے آتشزدگی سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو جمعرات کے روز ہدایت کی ہے کہ وہ از ازکم مزید ایک ہفتے تک اپنے مکانات سے دور رہیں کیوں کہ ہنگامی خدمات کے کارکن تباہ شدہ علاقوں سے زہریلے فضلے کی صفائی میں مصروف ہیں اور بجلی و گیس کی لائنوں کو منقطع کر رہے ہیں جو ملبے کے سبب خطرے کے باعث بن سکتی ہیں۔لینڈ سلائیڈنگ نے تباہ شدہ پہاڑی علاقوں کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے جہاں سطحی ڈھانچہ بھی تباہ ہوکر رہ گیا ہے اور ٹوٹے پائپوں سے پانی اور آگ بھجانے والے آلات میں موجود مادے بہہ جانے کے سبب زمین تر ہوگئی ہے جس سے لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین قدرتی آفت کا سامنا کرنے والے لوگوں میں مزید تناؤ اور دل کی تکلیف میں اضافہ ہوا ہے۔جنگل کی آگ 10 ویں روز بھی جل رہی ہے، فائر فائٹرز نے حالیہ سرخ جھنڈے کی صورتحال کے باوجود اطمینان کا اظہار کیا ہے کیوں کہ ریگستانی ہواؤں اور نمی میں آئی ہے کیوں کہ ان دو عوامل کے سبب آگ بڑھ رہی تھی۔تاہم نیشنل ویدر سروس نے خبردار کیا کہ سمندری ہوا اور بادلوں کے سائے کا یہ وقفہ مختصر ہو گا کیونکہ اتوار کو دوبارہ ایسے موسم کی پیشگوئی کی ہے جس کے سبب آگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔نقل مکانی کے سبب مایوسی کا شکار افراد نقصانات کا جائزہ لینے اور کسی بھی قسم کی ادویات کو بچانے کے لئے گھر واپس جانے کے خواہاں ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ بہت خطرناک ہے یا پھر آفت سے نمنٹے والے کارکنوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہوگا کیوں کہ ان میں پہلے ہی 27 کارکن ہلاک ہوچکے ہیں۔
لاس اینجلس سے نقل مکانی کرنے والوں کو ایک ہفتہ گھروں سے دور رہنے کی ہدایت

Leave a Reply