لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس کو “اوپن اینڈ شٹ کیس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں قانونی و آئینی تقاضے پورے کرنے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت سے ریاست کی حیثیت سے وصول کیے گئے 190 ملین پاؤنڈز (تقریباً 60 ارب روپے) ایک پراپرٹی ٹائیکون کے ذاتی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے گئے۔
ملک احمد خان نے کہا کہ عمران نیازی نے کابینہ سے جعلی منظوری کے ذریعے قومی خزانے کو لوٹا اور اس ڈاکے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔ القادر ٹرسٹ کے نام پر زمین رشوت کے طور پر حاصل کی گئی اور اس کا بڑا حصہ بیچ کر ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا، جبکہ ایک چھوٹے سے حصے پر القادر یونیورسٹی قائم کر کے مذہبی کارڈ کے ذریعے جرم کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی 2023 کے واقعات میں قومی دفاعی املاک کو نقصان پہنچانا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ سیاست اور جرم کے فرق کو سمجھنا اور اسے برقرار رکھنا لازم ہے۔
ملک احمد خان نے کہا کہ اس کیس سے خود ساختہ ایماندار مجرم کے تین سنگین جرائم واضح ہو چکے ہیں، جو رشوت اور قومی خزانے کے لوٹ مار کی بدترین مثال ہیں۔
190 ملین پاؤنڈ کیس: سزا میں تاخیر، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا ردعمل

Leave a Reply