اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کر لیا ہے۔ 21 اکتوبر 2024 کو ایوان بالا کے بعد 26ویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہو چکا ہے۔سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کے لیے 8 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اس آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان ہوں گے، جب کہ بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال بھی شامل ہوں گے۔یاد رہے کہ 16 جنوری کو سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم اور ریگولر بینچ کے اختیار سماعت سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا تھا، جس کے بعد نئے آئینی بینچ کی تشکیل کی گئی ہے تاکہ اس اہم کیس کی سماعت جاری رکھی جا سکے۔ یہ کیس پاکستان کی آئینی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہے، اور اس کے نتیجے میں کئی آئینی پہلوؤں پر بحث متوقع ہے۔

Leave a Reply