اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے واضح کر دیا کہ اگر دونوں مطالبات میں سے ایک بھی تسلیم نہ کیا گیا تو مذاکراتی عمل مزید آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات جمہوری عمل کا اہم حصہ ہیں اور انہیں سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔بیرسٹر گوہر نے زور دیا کہ اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ڈائیلاگ ضروری ہیں اور تمام فریقین کو ایک میز پر آکر مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کسی بیرونی مدد کی طلبگار نہیں ہے اور پارٹی کے بانی سمیت تمام اراکین قومی خودمختاری پر یقین رکھتے ہیں۔کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ایجنڈا چلانا، کورم پورا کرنا، اور قانون سازی حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک دن کے اجلاس پر ساڑھے 6 کروڑ روپے خرچ آتا ہے، لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اجلاس کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنائے۔ بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو اختلافات ختم کرنے کے لیے مل بیٹھنا ہوگا، کیونکہ یہی جمہوری عمل کی روح ہے۔
مطالبات نہ مانے گئے تو مذاکرات آگے نہیں بڑھیں گے، بیرسٹر گوہر

Leave a Reply