نیویارک: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ اکنامک فورم(ڈبلیو ای ایف) میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بہتر ہوا ہے اور قرض ٹو جی ڈی پی ریشو میں کمی آئی ہے، جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہدرست اقدامات سے پاکستان صحیح سمت میں گامزن ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اور فسکل اکاؤنٹ کا دہرا خسارہ ہے اور حکومت ان دونوں خساروں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 13.5 فیصد تک بڑھانے کے لئے ساختی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق، پاکستان کے قرضوں اور جی ڈی پی کے تناسب میں بہتری آئی ہے جو 78 فیصد سے کم ہو کر 67 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ابھی بھی طویل سفر باقی ہے۔پاکستان کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ جب جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچتی ہے تو درآمدات پر انحصار بڑھ جاتا ہے، جس سے ادائیگیوں کا توازن متاثر ہوتا ہے اور آئی ایم ایف کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے دوسرے مرحلے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ مرحلہ حکومت سے حکومت کے بجائے بزنس ٹو بزنس شراکت داری پر مرکوز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چینی کمپنیوں کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس منتقل کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔کیپٹل مارکیٹ میں تنوع لانے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان مصر کے تجربات سے سیکھ کر کیپٹل مارکیٹ تک رسائی کو متنوع بنانا چاہتا ہے اور پانڈا بانڈ جاری کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔وزیر خزانہ نے برین ڈرین پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے لئے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لئے حکومت سخت محنت کر رہی ہے، خاص طور پر آئی ٹی شعبے میں۔
درست اقدامات سے پاکستان صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، وزیر خزانہ

Leave a Reply