کابل: افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں ایک چینی کان کن نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گیا۔صوبائی پولیس کے ترجمان محمد اکبر حقانی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کی شام پیش آیا جب چینی شہری تاجکستان کی سرحد کے قریب “نامعلوم وجوہات” کی بنا پر سفر کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص نے سفر کے دوران سیکیورٹی حکام کو مطلع نہیں کیا، جو عمومی طور پر چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ حملے میں متاثرہ کے ساتھ سفر کرنے والے مترجم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بھی واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ ہلاک ہونے والا چینی شہری کان کنی کے ایک معاہدے کے تحت افغانستان میں کاروبار کر رہا تھا۔چین کے سفارتخانے نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔طالبان حکومت افغانستان کے وسیع قدرتی وسائل کو اقتصادی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنہری موقع کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ چین اور افغانستان کے حکام نے حال ہی میں کابل میں سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کی تقریب منعقد کی، جہاں نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے چینی سرمایہ کاروں کو افغانستان میں اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کی دعوت دی۔اگرچہ 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، لیکن داعش (ISIS) کا علاقائی گروہ تسلسل کے ساتھ حملے کر رہا ہے۔ 2022 میں کابل کے ایک ہوٹل پر حملے میں 5 چینی شہری زخمی ہو گئے تھے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔
شمالی افغانستان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چینی کان کن ہلاک

Leave a Reply