اسلام آباد: سینیٹ کی فنانس کمیٹی نے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی قیادت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 6 ارب روپے کی مالیت سے 1,010 گاڑیوں کی خریداری کا منصوبہ فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔کمیٹی اجلاس کے دوران اس منصوبے پر سخت تنقید کی گئی اور اسے “مشکوک” اور “کرپشن کا دروازہ کھولنے” کے مترادف قرار دیا گیا۔چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر کو اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں خریدنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے طنزاً کہا، “کیا ایف بی آر کے فیلڈ افسر پہلے سائیکلوں پر ٹیکس جمع کر رہے تھے؟”سینیٹر فیصل واوڈا نے الزام لگایا کہ ایف بی آر مخصوص کمپنیوں سے گاڑیاں خرید رہا ہے اور اس معاہدے کو “کرپشن کا بڑا اسکینڈل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ خریداری نہ روکی گئی تو یہ ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل بن سکتی ہے۔ایف بی آر کے حکام نے اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیاں فیلڈ افسران کی آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خریدی جا رہی ہیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ 6 ارب روپے کی اس خریداری کے لیے 13 جنوری کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا جا چکا ہے، اور 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی بھی کی گئی ہے۔
خریداری کا منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہوگا:
پہلا مرحلہ (جنوری تا مارچ 2025): 500 گاڑیاں فراہم کی جائیں گی، جن میں 75 گاڑیاں جنوری، 200 فروری اور 225 مارچ میں شامل ہوں گی۔
دوسرا مرحلہ (اپریل تا مئی 2025): 510 گاڑیاں فراہم کی جائیں گی، جن میں 250 اپریل اور 260 مئی میں شامل ہوں گی۔
تمام گاڑیاں ایف بی آر کے لوگو اور ٹریکر سسٹم کے ساتھ ہوں گی، اور پہلے سال کے لیے ٹریکر چارجز ایف بی آر برداشت کرے گا۔
کمیٹی نے خریداری کے عمل کی جلد بازی پر بھی تنقید کی۔ سینیٹر واوڈا نے کہاکہ یہ معاملہ بہت عجلت میں طے کیا گیا ہے، جس کی شفافیت پر سوال اٹھتا ہے۔سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ اس خریداری کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور آئندہ کسی بھی خریداری کے لیے شفاف اور مسابقتی عمل کو یقینی بنایا جائے۔
سینیٹ کمیٹی کا ایف بی آر کو 6 ارب روپے کی گاڑیوں کی خریداری منسوخ کرنے کا حکم

Leave a Reply