اسلام آباد: قومی اسمبلی میں آج (بدھ کو) حکومت کی جانب سے ہنر مند افرادی قوت کی برآمد کے لیے پروایکٹیو طریقہ اختیار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر برائے اوورسیز پاکستانی اور انسانی وسائل ترقی چوہدری سالک حسین نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں تقریباً 13 لاکھ افراد روزگار کے لیے بیرون ملک گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر دارشن نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وفاقی دارالحکومت میں ایک سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ راول جھیل میں جانے سے پہلے پانی کو صاف کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کورنگ ندی کے کنارے پر غیر منظم ترقی راول ڈیم کی آلودگی میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، آبی آلودگی کم کرنے کے لیے نم علاقے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔قومی اسمبلی نے “دی بایولوجیکل اینڈ ٹاکسن ویپن کنونشن (عملدرآمد) بل 2024” منظور کر لیا، جب کہ “دی کوڈ آف کرمنل پروسیجر (ترمیمی) بل 2025″، “دی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) بل 2025” اور “دی ڈیجیٹل نیشن (ترمیمی) بل 2024” بھی ایوان میں پیش کیے گئے، جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیا گیا۔پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی صحت سروسز نیلسن عظیم نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی توجہ کے باعث پولیو کے کیسز میں کمی آ رہی ہے اور سال 2025 کے آغاز سے کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایوان کی کارروائی میں شرکت کی۔ اجلاس کل دوپہر 2 بجے دوبارہ ہو گا۔
قومی اسمبلی اجلاس: حکومت کا ہنرمند افرادی قوت کی برآمدفعال کرنے اعلان

Leave a Reply