اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ چین میں زرعی تربیت کیلئے طلبہ کے انتخاب میں شفافیت اور میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے۔اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے طلبہ کی شکایات کے ازالے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی، خاص طور پر ان طلبہ کے حوالے سے جن کی درخواستیں پورٹل کے ذریعے جانچ پڑتال کے دوران مسترد ہوئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستانی طلبہ کی جدید زرعی تربیت کے تمام اخراجات برداشت کرے گی، اور جلد ہی طلبہ کا پہلا بیچ چین روانہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے طلبہ کیلئے 10 فیصد خصوصی کوٹہ مختص کیا گیا ہے تاکہ وہ بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔وزیراعظم نے چین کی قیادت اور یونیورسٹیوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو جدید زرعی تربیت کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور اس کی زرعی شعبے میں ترقی بے مثال ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے شفاف طریقے سے اپنی درخواستیں پورٹل کے ذریعے جمع کروائیں۔ 1,287 درخواستوں میں سے 711 طلبہ کو تربیت کیلئے منتخب کیا گیا۔ ان طلبہ میں بلوچستان اور گلگت بلتستان کے امیدوار بھی شامل ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یہ طلبہ دو مراحل میں چین بھیجے جائیں گے۔پہلے مرحلے میں 300 طلبہ مارچ میں چین روانہ ہوں گے۔ انہیں آبپاشی میں بہتری، مویشیوں کی بیماریوں کی تشخیص اور نگرانی، مویشیوں کی افزائش اور جدید جینیات، اور جدید بیجوں کی تیاری و پراسیسنگ کے شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔دوسرے مرحلے میں 400 طلبہ کو اس سال کے وسط میں چین بھیجا جائے گا۔ یہ طلبہ زرعی مشینری کے جدید استعمال، فصلوں کی تیز پیداوار، مصنوعی ذہانت سمیت زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اور پھلوں و سبزیوں کی پراسیسنگ میں تربیت حاصل کریں گے۔
چین میں زرعی تربیت کیلئے طلبہ کے انتخاب میں میرٹ کو ترجیح دی جائے: وزیراعظم

Leave a Reply