اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025ء کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ بل کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔ اس سے قبل صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کے بل کو مسترد کر دیا تھا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں پی ایف یو جے، اے پی این ایس، سی پی این ای، امینڈ اور پی بی اے شامل ہیں۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم صحافی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر کی جا رہی ہیں، اور اس ترمیم کا مسودہ ابھی تک ان کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) میں مزید ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اس کے تحت فیک نیوز پر سزا تین سال قید اور بیس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا۔ ترمیمی بل کے مطابق نئی شق 1 اے کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی، جو پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف تادیبی کارروائی کی مجاز ہو گی اور متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرے گی۔
پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025ء کثرت رائے سے منظور

Leave a Reply