اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا مشن فروری کے آخر یا مارچ کے اوائل میں 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کا پہلا جائزہ لینے کے لیے پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن کے پہلے جائزے کے لیے پاکستان آنے کی ابھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی تاہم توقع ہے کہ فروری کے آخر یا مارچ کے اوائل تک پاکستان کا دورہ کیا جائے گا۔اکتوبر میں جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ای ایف ایف اور دسمبر 2024 کے اختتام پر کارکردگی/مسلسل معیار کے تحت پہلے جائزے کا مجوزہ شیڈول 15 مارچ 2025 ہے۔سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک تین سالہ آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور پروگرام میں کیے گئے وعدوں پر قائم رہنا ہے اور بجٹ 26-2025 میں کچھ چیزوں کو مرحلہ وار کرنا پڑ سکتا ہے اور بعد میں بھی کچھ کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم کہاں ہیں، ہم پرعزم ہیں، اور ہم ان وعدوں پر قائم رہیں گے۔محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال میں ٹیکس پالیسی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے آپریشنز سے الگ کرنے کے حکومتی ارادے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسٹرٹیجک اقدام کا مقصد ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کے اپنے بنیادی کام پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل بنانا ہے، جس سے کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری آئے گی۔وزیر خزانہ نے ایک بار پھر ملک کے تنخواہ دار طبقے پر ”غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ“ کا اعتراف کیا۔ ”یہ میرا ذاتی خیال ہے، کہ واقعی تنخواہ دار طبقے کی طرف، غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ ہے“، وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ “ہم ٹیکس فارم کو سادہ اور آسان رکھنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ 60 سے 70 فیصد ملازمین سپر ٹیکس کے تابع نہیں ہیں۔

Leave a Reply