اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے بریتھ پاکستان ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ یہ کانفرنس نجی میڈیا گروپ کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، جس میں حکومتی نمائندوں، ماحولیاتی ماہرین اور صنعت کے قائدین نے شرکت کی تاکہ پاکستان کو درپیش ماحولیاتی بحران کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔اپنے خطاب میں پروفیسر احسن اقبال نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پاکستان، جو عالمی کاربن اخراج میں 1% سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا شکار ہے۔ انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سانحے میں ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا، 33 ملین افراد بے گھر اور 1,700 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، شدید گرمی کی لہروں اور طویل خشک سالی جیسے خطرات کا سامنا کر رہا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کر رہے ہیں اور عوام و معیشت کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے ملک میں اسموگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بھی اجاگر کیا، جو اب ایک قومی ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکی ہے، خاص طور پر لاہور، فیصل آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اس ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وفاقی وزیر احسن اقبال نے درج ذیل اقدامات تجویز کیے:
✅مشترکہ فضائی معیار کی نگرانی اور نفاذ کا مؤثر نظام۔
✅صاف توانائی اور پائیدار زراعت میں مشترکہ سرمایہ کاری۔
✅صنعتی اور گاڑیوں کے دھوئیں کو کم کرنے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات۔
وفاقی وزیر نے آئیندہ نسلوں کو درپیش مسائل کی سنگین صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ہم زمین اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں نہیں لیتے، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں سے ادھار لیتے ہیں۔ اگر آج عمل نہ کیا گیا تو شاید ہمارے پاس دینے کے لیے کچھ باقی نہ رہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ماحولیاتی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، جن میں قومی ماحولیاتی پالیسی (2021) اور قومی موافقتی منصوبہ (2023) شامل ہیں۔ انہوں نے اُڑان پاکستان منصوبے کو ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے درج ذیل اقدامات پر روشنی ڈالی:
✅ہائیڈرو الیکٹرک پارکس کے قیام کے ذریعے صاف توانائی کا فروغ۔
✅سیلاب اور ہیٹ ویو سے متعلق پیشگی وارننگ سسٹم کی مضبوطی۔
✅شجرکاری مہم اور جنگلات کی بحالی کے منصوبے۔
✅کم کاربن اخراج پر مشتمل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری تاکہ پائیدار شہری ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے سرکاری اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔ انہوں نے عالمی برادری سے ماحولیاتی مالی وعدے پورے کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کے لیے ضروری وسائل میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف بحث کا موقع نہیں، بلکہ عملی اقدامات کا لمحہ ہے۔ ہمیں شعور سے عمل، پالیسی سے اطلاق، اور انفرادی کوششوں سے اجتماعی ذمہ داری کی جانب بڑھنا ہوگا۔بریتھ پاکستان ماحولیاتی کانفرنس میں ماحول دوست منصوبوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جو پاکستان کو صاف، سبز اور ماحولیاتی طور پر مستحکم ملک بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
علاقائی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے‘ احسن اقبال کا ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب

Leave a Reply