Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
سپریم کورٹ کا کسی پارٹی کے دلائل پر انحصار لازمی نہیں ہوتا:جسٹس جمال مندوخیل – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

سپریم کورٹ کا کسی پارٹی کے دلائل پر انحصار لازمی نہیں ہوتا:جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد: جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ کلاز ڈی کے ہوتے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں کیسے ٹرائل کیا جا سکتا ہے؟ یہی سوال میرے دماغ میں اٹکا ہوا ہے۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ اور اور عزیر بھنڈاری ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں ایف بی علی کیس پر بات کی۔خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایف بی علی کیس کا وہ متعلقہ پیراگراف آپ کے سامنے رکھتا ہوں، ایف بی علی کیس کو جس طرح سے دوسری طرف نے اپنے دلائل میں بیان کیا وہ کیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کسی پارٹی کے دلائل پر انحصار لازمی نہیں ہوتا، ایف بی علی کیس میں کہا کہ آرمڈ فورسز کے ممبران پر بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے۔جسٹس جمال مندوخیل کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی علی کیس کلاز ڈی کی بات کرتا ہے کہ اس کے تحت شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل ہوں گے، پھر ایف بی علی کیس کے تناظر میں کلاز ڈی کے ہوتے شہریوں کا فوجی عدالتوں میں کیسے ٹرائل کیا جا سکتا ہے؟ یہی سوال ہے جو میرے دماغ میں اٹکا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ بیٹھ جائے تو پھر وہ مکمل انصاف کا اختیار بھی استعمال کر سکتی ہے ، بعد ازاں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *