Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
طورخم تجارتی گزرگاہ آج 25 روز بعد کھولنے کا فیصلہ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

طورخم تجارتی گزرگاہ آج 25 روز بعد کھولنے کا فیصلہ

پشاور: پاکستان اور افغانستان کی طورخم تجارتی گزرگاہ آج 25 روز بعد کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سیکورٹی حکام کی فلیگ میٹنگ ختم ہوگئی، طورخم تجارتی گزرگاہ آج شام 4 بجے دو طرفہ تجارت کےلئے کھول دیا جائے گا۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق بارڈر کو مریضوں کے لئے بھی آج کھول دیا جائے گا، بارڈر پیدل آمدورفت کے لئے دو دن بعد کھولا جائےگا۔جرگہ ذرائع کے مطابق متنازع تعمیرات بند کرنے کے فیصلے پر افغان حکام نے رضامندی ظاہرکی ہے، جے سی سی اجلاس تک فائر بندی اور متنازع تعمیرات پر کام بند ہوگا۔ جرگہ ممبر کے مطابق 2 روز قبل پاکستان اور افغان جرگہ کے درمیان حتمی نشست ہوئی تھی۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق 21 فروری کو افغان فورسز کی پاکستانی حدود میں تعمیرات پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی، کشیدگی کے باعث طورخم تجارتی گزرگاہ ہرقسم آمدورفت کےلئے بند کردی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق کسٹم حکام نےآج عملہ کو طلب کرلیا، امیگریشن عملہ، پولیس سمیت تمام سرکاری عملہ کو حاضر ہونے کا حکم دیا گیاہے۔خیال رہے کہ طورخم تجارتی گزرگاہ بند ہونے سے سرحد کے دونوں جانب ہزاروں کار گو گاڑیاں پھنس گئی ہے۔ واضح رہے کہ تین ہفتوں سے زائد عرصے قبل طورخم سرحد کے متصل افغان فورسز کی طرف سے تعمیرات پر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور کشیدگی کے باعث طورخم سرحدی گزرگاہ ہرقسم آمدورفت کےلیے بند کردی گئی تھی۔کسٹم حکام کے مطابق پاک افغان طورخم تجارتی گزرگاہ بند ہونے سے یومیہ 30 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے۔ طورخم بارڈر کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم اڑھائی ارب ڈالر سے کم ہو کر ڈیڑھ ارب ڈالر تک آگیا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *