اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے برسوں تک افغان شہریوں کی مہمان نوازی کی، مگر اب بغیر پاسپورٹ کے یہاں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر قانونی افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایسے افغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا جن کے پاس کوئی دستاویزات نہیں تھیں۔ دوسرے مرحلے میں افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور تیسرے مرحلے میں پی او آر ہولڈرز کو واپس بھیجا جائے گا۔ اب تک 8 لاکھ 57 ہزار 157 افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا فیصلہ ہے کہ کسی قسم کی توسیع نہیں کی جائے گی اور افغان شہریوں کی واپسی کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔ پنجاب میں 38 اور اسلام آباد میں ایک ٹرانزٹ پوائنٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں افغان شہریوں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کی خدمت کی جاتی ہے اور ان کی واپسی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں منشیات کی سپلائی افغانستان سے آتی ہے، جو عالمی سطح پر دہشت گردی اور جرائم کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کا واضح موقف ہے کہ افغان شہریوں کو افغانستان میں رکھنا وہاں کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
افغان شہریوں کی بغیرپاسپورٹ پاکستان میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں، طلال چوہدری

Leave a Reply