کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات محکمہ صحت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں محکمہ صحت بلوچستان کے حکام نے وزیر اعلیٰ کو صحت کے شعبے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے بلوچستان انسٹیٹیوشنل ریفارمز ایکٹ لایا جائے گا اور اس سلسلے میں زیر التوا 12 مسودہ قوانین پر کام تیز کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے ہیلتھ سیکٹر میں نمایاں بہتری کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے ہیلتھ سیکٹر ریفارمز یونٹ کو جلد فعال کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو معیاری صحت کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ صحت کے شعبے میں عوامی مفاد کے خلاف کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور انفرادی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے “کی پرفارمنس انڈی کیٹرز” تشکیل دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی نے ہڑتال یا دھرنا دینا ہے تو وہ شوق سے دیں لیکن عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہر سال محکمہ صحت کے لیے 80 ارب روپے سے زائد مختص کیے جاتے ہیں، اور یہ رقم صوبے کے ہر فرد کی صحت کی بہتری پر خرچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے عوامی وسائل کے ضیاع کو ہرگز برداشت نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

Leave a Reply