Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
مخصوص نشستوں کا کیس: کیا سپریم کورٹ کے اختیارات کی کوئی حد ہے؟ ججز کے اہم ریمارکس – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

مخصوص نشستوں کا کیس: کیا سپریم کورٹ کے اختیارات کی کوئی حد ہے؟ ججز کے اہم ریمارکس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ججز نے اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کیا سپریم کورٹ کو ہر کیس میں لامحدود اختیارات حاصل ہیں؟ کیا کوئی حد نہیں ہونی چاہیے؟
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 184(3) اور 187 کے تحت مکمل انصاف کا اختیار حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کا حق تسلیم کیا گیا ہے اور فیصلہ آئینی تقاضوں کے مطابق ہوا۔جسٹس محمد علی مظہر نے واضح کیا کہ ہائی کورٹس کے اختیارات آرٹیکل 199 کے تحت سپریم کورٹ سے زیادہ ہیں، جبکہ جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ کیا مخصوص نشستیں لینا کسی جماعت کا بنیادی حق ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ جب عوام ووٹ دیتے ہیں تو مخصوص نشستیں بھی عوام کا حق بن جاتی ہیں، یہ سیاسی جماعتوں کا بھی حق ہے۔سماعت میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ سپریم کورٹ کسی بھی صورت میں انصاف فراہم کرنے کا اختیار رکھتی ہے، چاہے کوئی مخصوص آئینی آرٹیکل لاگو نہ ہو۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ووٹ کے حق اور عمر کی حد سے متعلق سوالات کیے، جس پر وکیل نے کہا کہ ووٹ ایک بنیادی اور آئینی حق ہے جو قانون کے تحت 18 سال کی عمر پر ملتا ہے۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت پیر کی صبح 9:30 بجے تک ملتوی کر دی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *