Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
سپریم کورٹ نے طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن نہ دینے والے امتیازی سرکلر کو کالعدم قرار دے دیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

سپریم کورٹ نے طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن نہ دینے والے امتیازی سرکلر کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن دینے کے حوالے سے بڑا فیصلہ سنا دیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ بیٹی کی پنشن شادی کی حیثیت پر نہیں، حق کی بنیاد پر دی جائے گی، بیٹی کی پنشن کے لیے طلاق کا وقت (والد کی وفات سے پہلے یا بعد) غیر متعلقہ ہے۔جسٹس عائشہ ملک کا تحریری کردہ 10 صفحات کا فیصلہ جاری کر دیا گیا، فیصلے کے مطابق پنشن سرکاری ملازم کا قانونی حق ہے، خیرات نہیں،پنشن کا حق اہل خانہ کو منتقل ہوتا ہے اور اس میں تاخیر جرم ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کی پنشن کا انحصار صرف مالی ضرورت پر ہونا چاہیے، نہ کہ شادی کی حیثیت پر۔عدالت نے والد کی وفات کے بعد طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن نہ دینے والے امتیازی سرکلر کو کالعدم قرار دے دیا۔فیصلے میں کہا گیاکہ سندھ حکومت کا 2022 کا امتیازی سلوک والا سرکلر غیر قانونی اور آئین کے خلاف ہے۔پاکستان کا بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کے باوجود صنفی مساوات میں بدترین رینکنگ پر ہونا باعثِ افسوس ہے۔واضح رہے کہ درخواست گزار سورۃ فاطمہ (طلاق یافتہ بیٹی) نے والد کی پنشن دوبارہ شروع کرنے کی درخواست دی تھی، سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ بینچ نے درخواست گزار سورۃ فاطمہ کی پنشن کی منظوری دی، سندھ ہائیکورٹ فیصلہ کیخلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔سندھ حکومت نے موقف اختیار کیا کہ پنشن صرف ایسی بیٹی کو مل سکتی ہے جو والد کی وفات کے وقت طلاق یافتہ ہو،سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور کہا کہ پنشن خیرات یا بخشش نہیں بلکہ آئینی اور قانونی حق ہے۔عدالت نے کہا کہ بیٹی کی پنشن کو شادی کی حیثیت سے مشروط کرنا آئین کے آرٹیکل 9، 14، 25 اور 27 کی خلاف ورزی ہے۔سرکلر قانون کی تشریح نہیں بلکہ اس میں غیر قانونی شرط شامل کر رہا ہے۔ پنشن کا حق بنیادی آئینی حق ہے، سرکاری تاخیر جرم کے زمرے میں آتی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *