اسلام آباد(سنگ میل نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے گزشتہ مالی سال میں آئی ٹی برآمدات کے 3.8 ارب ڈالر کے ہدف کے حصول پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے آئندہ برسوں میں آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے سالانہ اہداف اور ضروری اقدامات پر مبنی جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹائیزیشن سے معیشت کو ترقی دینے اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایک مکمل ڈیجیٹل ایکو سسٹم اور اس کا انفراسٹرکچر متعارف کروایا جا رہا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات کے حوالے سے ایک اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025 میں وزارت کے اقدامات کی بدولت آئی ٹی برآمدات میں 19 فیصد اضافہ ہوا اور 3.8 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کیا گیا، جبکہ ملک میں فری لانسرز کی تعداد میں 91 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے تحت 386 نئے اسٹارٹ اپس کو معاونت فراہم کی گئی، جن میں سے 14 کو عالمی سطح پر بھیجا گیا۔ ملک کے 26 شہروں میں 40 ای-روزگار مراکز قائم کیے گئے، جبکہ 4 پاکستانی ٹیموں نے بلیک ہیٹ ایم ای اے میں دنیا کی 50 بہترین ٹیموں میں جگہ بنائی۔ اس کے علاوہ، 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار طلبہ و طالبات کو آئی ٹی کی پیشہ ورانہ تربیت دی گئی، جن میں سے 1 لاکھ 15 ہزار خواتین شامل ہیں۔ نیشنل انکیوبیشن سینٹر نے 130 خواتین کی سربراہی میں اسٹارٹ اپس کو سہولیات فراہم کیں، جبکہ خواتین کے لیے خصوصی تربیتی مراکز بھی قائم کیے گئے۔ اس کے علاوہ، 2200 وفاقی سرکاری افسران اور 3 ہزار طلبہ و طالبات کو سائبر سیکیورٹی کی تربیت دی گئی۔وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ڈیجیٹائیزیشن کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک-ایپ کے ذریعے 6.2 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔ وفاقی سرکاری دفاتر میں 98 فیصد ای-آفس کا اطلاق مکمل کیا گیا اور 51 نئے سسٹمز متعارف کروائے گئے، جو گورننس کی بہتری میں معاون ثابت ہوں گے۔ٹیلی کام سیکٹر کے بارے میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو 4G تک رسائی فراہم کی گئی۔ ٹیلی کام کنکشنز کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جبکہ 10 لاکھ نئے انٹرنیٹ صارفین کے اضافے کے ساتھ انٹرنیٹ کے استعمال میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔این آئی ٹی بی کی ازسر نو تنظیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ ادارہ عصری تقاضوں کے مطابق نئے نظام کی تشکیل پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ این آئی ٹی بی اس وقت 179 سے زائد ویب سائٹس، 31 سے زائد موبائل ایپلیکیشنز، 113 سے زائد پورٹلز اور 57 کنسلٹینسی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اس کی تنظیم نو میں صارف کے تجربے کی بہتری، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر، سائبر سیکیورٹی، رسک مینجمنٹ، تحقیق، جدت اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے تمام اقدامات کی معینہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے اور آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے سالانہ اہداف پر مبنی جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں بالخصوص خواتین کو آئی ٹی کے شعبے میں خود انحصار بنانے کے لیے قائم کردہ مراکز خوش آئند ہیں، جبکہ ای-آفس کے اطلاق سے پیپر لیس گورننس کے ذریعے وقت اور وسائل کی بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب سے ہزاروں نوجوان باعزت روزگار حاصل کر رہے ہیں اور آئی ٹی کی تعلیم و ہنر کے ذریعے انہیں عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے این آئی ٹی بی کے بنیادی ڈھانچے کی ازسر نو تنظیم اور مارکیٹ سے بہترین افرادی قوت کی بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم کی آئی ٹی برآمدات 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے جامع لائحہ عمل کی ہدایت

Leave a Reply