Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری، مزید 89 فلسطینی شہید‘دنیا بھر میں مظاہرے – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری، مزید 89 فلسطینی شہید‘دنیا بھر میں مظاہرے

غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فورسز کی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری، 24گھنٹوں میں مزید 89 فلسطینی شہید جبکہ 513 زخمی ہوگئے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے بے گھر اور بھوک افلاس کا شکار افراد پر بمباری اور فائرنگ کی، خوراک کے متلاشی 31 فلسطینی صیہونی فوج کی گولی باری کا نشانہ بنے۔غزہ انکلیو میں دو بچوں سمیت پانچ مزید فلسطینی بھوک سے شہید ہو گئے، 103 بچوں سمیت غذائی قلت سے شہید ہونے والوں کی تعداد 227 ہوگئی جبکہ غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 61 ہزار 599ہوگئی جبکہ 1 لاکھ 54 ہزار 88فلسطینی زخمی ہیں۔اُدھر آزادیِ اظہار کی عالمی تنظیم پین امریکا کا کہنا ہے کہ الجزیرہ کے پانچ صحافیوں کا اسرائیل کے ہاتھوں قتل انتہائی تشویشناک ہے اور یہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔فریڈم ٹو رائٹ سنٹر کی ایم ڈی لیزل گرنٹھولٹز نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف صحافیوں کی پوری ایک ٹیم کو ختم کر گیا، ایک ایسے وقت میں جب غزہ سے خبریں دینے والی آوازیں پہلے ہی بہت کم رہ گئی ہیں بلکہ مزید چھ فلسطینیوں کی جان بھی لے گیا، اس ہلاکت خیز یلغار میں جو پہلے ہی ہزاروں جانیں نگل چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ حقیقت کہ انس الشریف کے اہلِ خانہ، دوست، اور ساتھی، اب انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے یا سوگ منانے کی بجائے اسرائیل کے بے بنیاد الزامات کے دفاع میں لگے ہیں، یہ بات اس جرم کی بے حسی کو اور بھی بڑھا دیتی ہے۔پین امریکا نے یہ بھی بتایا کہ انس الشریف اس رائٹرز ٹیم کا حصہ تھے جس نے 2024 میں پلٹزر انعام جیتا تھا۔دوسری جانب دنیا بھر میں اسرائیل کی جانب سے غزہ سٹی میں الجزیرہ کے عملے کے قتل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں، مقبوضہ مغربی کنارے میں سیکڑوں فلسطینیوں نے شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا، فلسطینی پرچم لہرائے اور اپنے شہید صحافی ساتھیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔تیونس کے دارالحکومت بھی سیکڑوں افراد نے اسرائیلی حملوں پر احتساب کا مطالبہ کیا، جرمنی کے دارالحکومت برلن اور نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں بھی ان صحافیوں کی یاد میں مظاہرے اور تقریبات ہوئیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی غزہ میں نسل کشی کی کوریج نہ کرنے نے اسرائیل کو اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں خصوصاً صحافیوں، کو قتل کرنے کی اجازت دی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *