اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، چاول، مکئی، گنا اور کپاس سمیت بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان ہوا، ہزاروں ایکڑ اراضی زیر آب ہے، صوبوں سے مل کر نقصانات کا ازالہ کیا جائیگا، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنا بہت بڑا چیلنج ہے، پاکستان تنہا اس سے نہیں نمٹ سکتا، روڈ میپ وضع کرنا ہوگا، ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے فتنے کا مکمل خاتمہ ہمارا اولین فرض ہے، شہدا کی قربانیوں کی سوشل میڈیا پر تضحیک کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کابینہ کو بتایا کل میں نے جی ایچ کیو میں پاک فوج کے بہادر افسر میجرعدنان اسلم جنہوں نے فتنہ الخوارج کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ اس موقع پر ان کے والد اورخاندان کے دیگر افراد سے بھی ملاقات ہوئی ،شہید کے والد انتہائی جذبے سے سرشار تھے ۔ انہوں نے فیلڈ مارشل جنر ل سید عاصم منیر کی موجودگی میں مجھے کہا انہیں اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے حتیٰ کہ ان کی بہنوں نے کہا ہمارے بھائی نے عظیم قربانی دی ہے ،شہید کے اہلخانہ نے بھی مادر وطن کیلئے قربانی دینے کے جذبے کا اظہارکیا۔ وزیراعظم نے کہا یہ جذبات صرف میجر عدنا ن اسلم شہید کے خاندان کے نہیں بلکہ پاک فوج کے تمام افسر اور جوان اسی جذبے سے سرشار ہیں ، پوری قوم شہدا، غازیوں اور ان کے خاندانوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کچھ لوگ ان قربانیوں کی سوشل میڈیا پر جس طرح تضحیک کررہے ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ،پاکستان کو فتنہ الخوارج سے نجات دلانے کیلئے جو عظیم قربانیاں دی جارہی ہیں ان کا ادراک ہونا چاہئے ، اس فتنے کی بیخ کنی نہ کی گئی تو پاکستان کے ساتھ اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہوگا، یہ ہمارا قومی و ملی فریضہ ہے کہ اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے ، افواج پاکستان اور ان کی قیادت کو جس طرح سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جارہا ہے یہ ناقابل برداشت ہے ،اس کا سر کچلنا ہو گا۔وزیراعظم نے دورہ چین پر کابینہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا نائب وزیراعظم ، متعلقہ وزرا اور ایس آئی ایف سی کے حکام سمیت حکومتی ٹیم کی کاوشوں کے نتیجے میں چین کا دورہ انتہائی کامیاب رہا اور بزنس کانفرنس کا شاندار انعقاد ہوا،ہمیں اس معاملے پر مسلسل اورمزید پیشرفت کرنا ہوگی۔ اس سلسلے میں کوئی کوتاہی،تاخیریا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔26ستمبرکو وفاقی وزیر احسن اقبال چین جائیں گے اور وہاں سی پیک 2.0 کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں کا اعلان ہوگا۔وزیراعظم نے بتایا کہ چین میں بزنس ایونٹ کے دوران ساڑھے 8ارب ڈالرکے اعلانات ہوئے ،اس میں جوائنٹ وینچرز اور ایم او یوز دونوں شامل ہیں ۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا گزشتہ روز امریکی کمپنیوں کے ساتھ بھی ایم او یوز پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت مائنز اینڈ منرلز بالخصوص جیمز اینڈ سٹونزکے حوالے سے امریکی سرمایہ کاری آئے گی۔وزیراعظم نے کہا حکومت امریکا کے ساتھ تعلقات کے فروغ کیلئے دن رات کوشاں ہے ، ہم نے امریکا کے ساتھ بھی بہتر تعلقات استوار کرنے ہیں اورچین کے ساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کو بھی مضبوط بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر ،خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی،اب سیلابی پانی سندھ میں بھی داخل ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے ذمہ داریاں تفویض کردی گئی ہیں ، آئندہ ہفتے میں اعدادوشماراور تفصیلات سامنے آجائیں گی، چاول ، مکئی ، گنا اورکپاس سمیت بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان ہوا ہے جن کا درست تخمینہ لگایا جارہا ہے ، یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں بھی لے کر آئیں گے ۔وزیراعظم نے دعا کی سندھ میں سیلاب سے کم سے کم نقصانات ہوں۔وزیراعظم نے ملک میں ماحولیاتی وزرعی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا وفاقی کابینہ احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی قائم کررہیے جس میں متعلقہ وزرا اور سیکرٹریز شامل ہونگے ، چیف سیکرٹریزبھی کمیٹی کا حصہ ہونگے ۔ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا جائے گا جس میں چاروں صوبائی وزرا اعلیٰ اورمتعلقہ افسر بھی موجود ہونگے ،وفاق اور صوبوں کومل کر صورتحال سے نمٹنا اور نقصانا ت کا ازالہ کرنا ہوگا۔وزیراعظم نے قطر میں اسرائیل کے سفاکانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا اسرائیل نے قطر کی سالمیت اور خودمختاری پر حملہ کیا ہے ، فلسطین میں بے گناہ بچوں ، بوڑھوں، جوانوں اور مرد وزن کا خون بہایا جارہا ہے ، دنیا کی تاریخ میں اس قتل وغارت کی مثال نہیں ملتی۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں ملک بھر میں رواں برس مون سون اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر کلائمیٹ اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری دی گئی ۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی کابینہ نے وزارت پٹرولیم کی سفارش پر صارفین کو آر ایل این جی کنکشنز کی فراہمی کی بھی منظوری دے دی جس سے صارفین کو ایل پی جی کی نسبت 30 فیصد کم لاگت میں گیس دستیاب ہوگی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم چاروں صوبوں کے وزرا اعلیٰ اور متعلقہ حکام پر مشتمل اجلاس کی جلد صدارت کریں گے جس میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے مزید نقصانات میں کمی کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر مشاورت ہوگی۔ وفاقی کابینہ کو ملک میں سیلاب کی موجودہ صورتحال اور نقصانات پر بریفنگ دی گئی اور سیر حاصل مشاورت کے بعد ایمرجنسی کی اصولی منظوری کا فیصلہ کیا گیا۔
زرعی و ماحولیاتی ایمرجنسی کا اعلان : صوبوں سے ملکر نقصانات کا ازالہ کیا جائیگا ملک کیخلاف پروپیگنڈا کرنیوالے فتنے کا مکمل خاتمہ ہمارا اولین فرض : شہباز شریف

Leave a Reply