اسلام آباد:سپریم کورٹ آئینی بینچ میں زیر سماعت سپر ٹیکس سے متعلق کیس میں ایف بی آر وکیل کے دلائل مکمل نہ ہو سکے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے سیمنٹ کی بوری ہو یا ایل این جی، بوجھ عام آدمی پر ہی آتا ہے، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تو کام چلیں گے۔جسٹس جمال مندوخیل بولے ٹیکس دینے والوں کی حوصلہ شکنی نہ کریں لوگ پھر بیرون ملک جاتے ہیں۔سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت نجی کمپنی کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اختیار کیا کہ دیکھنا یہ ہے کیا انکم ٹیکس قانون کی شقیں آئین کے مطابق ہیں، عدالت انکم ٹیکس قانون کو آئین کے تناظر میں دیکھے ۔ ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا ایف بی آر کیلئے سب سے بڑی مشکل مختلف ہائیکورٹس کے مختلف فیصلے ہیں، ایک ہی معاملے پر ہائیکورٹس کے مختلف فیصلے موجود ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے اس کیس میں ہائیکورٹس کیخلاف اپیلیں ہی سن رہے ہیں، ہائیکورٹس کے فیصلوں کو مدنظر رکھ کر ہی اپنا فیصلہ دیں گے۔وکیل ایف بی آر نے کہا سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ سابقہ دو فیصلوں کی بنیاد پر دیا۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا پارلیمان نے ٹیکس پیئر میں تفریق کیوں رکھی؟ وکیل عاصمہ حامد نے کہا سندھ ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے کوئی ڈیٹا نہیں مانگا۔ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے ٹیکس لگانے کا واحد مقصد تو حکومتی آمدن کو بڑھانا ہوتا ہے، ایسے اقدامات سے ٹیکس پیئر کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے ٹیکس کا سارا بوجھ آخرکار صارف اور عوام پر آتا ہے ۔ وکیل ایف بی آر نے کہا حکومت نے سپر ٹیکس صرف خاص حد کی آمدن والے پر لگایا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے سیمنٹ کی بوری ہو یا ایک ایل این جی، بوجھ عام آدمی پر ہی آتا ہے ، لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے تو کام چلیں گے ۔ وکیل ایف بی آر نے کہا انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی تعریف میں فرق ہے ، سپر ٹیکس 300 ملین کی آمدن سے زائد پر لگایاجاتا ہے ۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے مقدمہ صرف اتنا ہے کہ ٹیکس پیئر میں تفریق کیوں کی گئی۔ جسٹس جمال مندو خیل نے کہا نہ فیصلوں میں وجوہات ہیں نہ ٹیکس میں تفریق کی وجوہات بتائی گئیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے بجٹ تقریر کے علاؤہ کوئی اور دستاویز کیس میں ضروری نہیں، دیگر ٹیکسز کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ٹیکس لگایا گیا؟ وکیل ایف بی آر نے موقف اپنایا سپر ٹیکس ایک خاص آمدن سے اوپر والے 15 سیکٹرز پر لگایا گیا، کسی کمپنی کے وکیل نے ٹیکس ادائیگی کی استطاعت نہ ہونے کا موقف نہیں اپنایا۔ بعدازاں عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی۔
سپر ٹیکس کیس، آسانیاں پیدا کرینگے تو کام چلیں گے، حوصلہ شکنی نہ کریں : سپریم کورٹ

Leave a Reply