کراچی :سندھ ہائیکورٹ میں کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن میں کی گئی ترمیم کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست گزار کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے سیکریٹری بلدیات، ڈی جی ایس بی سی اے ، ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کردیے۔ اور فریقین سے 13 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔ درخواست گزار وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ کے بی ٹی آر میں کی گئی ترمیم سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے ، ماسٹر پلان اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ترمیم کی گئی جس سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں۔ وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ ایس بی سی اے نے ترمیم کو واپس لینے کے بجائے منسوخ کیا اور منسوخی سے قبل اس سے فائدہ اٹھانے والوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا جو شفافیت اور قانون کے اصولوں کے منافی ہے ۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک تفصیلی جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔دریں اثنا سندھ ہائی کورٹ میں معذور کوٹے پر سیکنڈری اسکول ٹیچر کی بھرتی نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔سرکاری وکیل کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس فیصل کمال عالم نے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب داخل نہ کیا گیا تو چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا۔
بلڈنگ اینڈ ٹائون پلاننگ ریگولیشن میں ترمیم کیخلاف فوری سماعت کی درخواست منظور

Leave a Reply