کراچی:پاکستان کا گندم کا شعبہ اس وقت شدید بحران سے گزر رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ کسانوں کو پیداواری لاگت سے کم قیمت ملنا ہے۔اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس (OICCI)کے مطابق 2025 میں کسانوں کو گندم کی فی من قیمت صرف 2100 سے 2300 روپے ملی، جس سے بڑی تعداد میں کسان متبادل فصلوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ OICCI نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال گندم کی کاشت کے رقبے میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب حکومت کی جانب سے کم سے کم امدادی قیمت اور محدود سرکاری خریداری کے باعث 90 فیصد سے زیادہ چھوٹے کسان کٹائی کے دوران اپنی گندم کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہو گئے ۔ اس کے نتیجے میں انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل سکا، اور اس کے اثرات قومی سطح پر غذائی سلامتی کے خدشات کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔مالی سال 2025 میں زرعی قرضوں کی فراہمی میں 16.3 فیصد اضافہ ہوا، جو 2577 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ تاہم یہ سہولت زیادہ تر بڑے کاشتکاروں تک ہی محدود رہی، جبکہ وہ چھوٹے کسان، جو ملک کی گندم کی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، اب بھی مالیاتی رسائی سے محروم ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
گندم کا شعبہ شدید بحران کا شکار، پیداوار میں کمی کا خدشہ

Leave a Reply