ملتان ،لاہور: جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں ،دھوند بند پر سیلابی ریلے سے شگاف 400فٹ سے بھی بڑا ہوگیا ،شجاع آباد کی درجنوں بستیاں زیرآب آگئیں ،سینکڑوں مکان گرگئے ،متاثرین کی بڑی تعداد گھروں میں محصورہے جبکہ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہناہے کہ علی پور مکمل طور پر ڈوب گیاہے۔ملتان سے اوچ شریف موٹروے ایم 5بند کردی گئی ،جلالپور پیروالا سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے اور متاثرین ملتان روڈ دھوند بند پر پناہ لینے پر مجبور ہیں ،متاثرین نے پینے کا پانی اور خیمے نہ ملنے پر احتجاج کیا اور سیاستدانوں سے شکوہ کیا،سیلاب میں اب تک 104ہلاکتیں ہوچکی ہیں تاہم اب پنجاب بھر میں دریا معمول پر آنے لگے ۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ سیلابی علاقوں میں بجلی بلوں کوموخر کرنا کوئی احسان نہیں ،یہ خادم پاکستان کی حقیر سی کوشش ہے ، ریلیف کے مزید اقدامات کرینگے ۔ تفصیلات کے مطابق سیلابی پانی کی شدت کے باعث ملتان سے اوچ شریف تک موٹروے ایم فائیو کو مکمل طور پر بند کردیاگیاہے ،دھوند بند میں سیلابی ریلے سے پڑنے والا شگا ف 400فٹ تک چوڑا ہوگیا اور سیلابی پانی موضع رکن ہٹی میں داخل ہوگیاجبکہ بستی سومن ،بستی مولا، بستی داد ،نواں شہر ،مٹھو اور ماڑا سمیت درجنوں بستیاں زیرآب آچکی ہیں ،سینکڑوں مکانات گرنے سے پچاسی ہزار افراد متاثر ہوئے جبکہ اکثریت گھروں میں محصور ہے ، سیلاب زدہ علاقوں میں چوری کے واقعات بھی بڑھ گئے ، جلال پور پیروالا سے نقل مکانی پر مجبور متاثرین دھوند بند پر اور ملتان روڈ پر پناہ لئے ہوئے ہیں اوردو دن گزرجانے کے باوجود بے یارومددگار ہیں ،سیاستدانوں نے بھی کوئی مددفراہم نہیں کی ۔متاثرین کا کہناتھاکہ پینے کا پانی اور کھانا نہیں مل رہا ،خیمے تک نہیں دئیے گئے ۔ان کا مطالبہ تھاکہ حکومت صورتحال کا نوٹس لے کر ریلیف کے حوالے سے سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کرے اور مال مویشیوں کو بچانے کیلئے چارے اور ویٹرنری ڈاکٹرز کا بندوبست کرے ۔صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ متاثرہ بستیوں کے مکینوں کو ریلیف دینے کے حوالے سے کاوشیں تیز کر دی ہیں، مشکل کی گھڑی میں بزنس کمیونٹی بھی باہر نکلے اور حکومت کا ساتھ دے ۔ان کاکہناتھاکہ سیلا ب نے ملتان کی138بستیوں میں تباہی مچائی جس سے 6 لاکھ افراد متاثر ہوئے ،جلا ل پور اور شجاع آباد کی ڈیڑھ سو سے زیادہ بستیاں پانی میں ڈوب گئیں ،سینکڑوں مکانات گرنے سے لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ، ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی کپاس، کماد ،چاول، تل اور چارہ جات کی فصلیں تباہ ہو ئیں ۔خواجہ سلمان رفیق اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کشتی پر سیت پور کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کئے ،دونوں وزرا ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور بھی گئے اور متاثرین سے ملاقات کی ۔ مریم اورنگزیب نے سیلاب متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ علی پور پورا ڈوب گیا ہے بہت بڑا نقصان ہوا ہے ،وزیراعلٰی کی ہدایت پر سیلاب سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام شروع کردیا گیاہے ۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ضلعی انتظامیہ کو ہر سیلاب متاثرہ فرد کے نقصان کا تعین کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ ضلع رحیم یار خان میں بستی ساون ماچھی موضع رسول پورکے نزدیک حفاظتی بند ٹوٹنے سے درجن سے زائد بستیاں زیرآب آگئیں اور سینکڑوں مکانات متاثر ہوئے لوگ وہاں سے نقل مکانی کرنے لگے ہیں ۔وزارت آبی وسائل کے مطابق 3دریاؤں چناب ،راوی اور ستلج میں پانی کی سطح میں بڑی کمی آئی ہے ۔ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر 27 اگست کو آٹھ لاکھ پچانوے ہزار کیوسک کا ریلا آیا تھا لیکن گزشتہ روز چناب ہیڈ مرالہ پر پانی کم ہو 31 ہزار 500 کیوسک رہ گیا۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کم ہو کر 1 لاکھ 1 ہزار 95 کیوسک، راوی میں جسر کے مقام پر پانی کم ہو کر 12 ہزار 600 کیوسک رہ گیا ہے ۔سیلاب کے باعث بورے والا کے نواحی علاقے ساہوکا میں گزشتہ روز بارات سیلابی پانی میں پھنس گئی ،دلہا اپنی بارات عارفوالا لے کر جا رہا تھا کہ اچانک پانی کے ریلے نے ان کا راستہ روک لیا۔ باراتیوں نے فوری طور پر ریسکیو اہلکاروں سے مدد طلب کی، جس پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ دریائے راوی میں ڈو ب کر 12سالہ بچہ فیضان جاں بحق ہو گیا ۔ اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب میں پانچ سالہ بچی محبوبہ ڈیم میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی۔ نارنگ کے سرحدی دیہات مقبول پور میانی میں باپ بیٹا سیلابی پانی میں ڈوب گئے ۔8سالہ بیٹے کو مقامی لوگوں نے بچا لیا جبکہ باپ طاہر محمود موقع پر جاں بحق ہوگیا۔پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ نے گڈو بیراج پر 14 سے 15 ستمبر تک اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے ۔ رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے بتایا ہے کہ گڈو بیراج پر پانی کے بہاؤ میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ سندھ حکومت کے ترجمان مصطفی بلوچ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران 7 لاکھ کیوسک یا اس سے زائد پانی کا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے ۔ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے گیارہویں سپیل کا الرٹ جاری کر دیا۔پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 104 ہو گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں ۔پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے 11ویں سپیل کا الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 16 سے 19 ستمبر کے دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ رو ز قوم سے خطاب میں کہاکہ متاثرہ گھریلو صارفین کے اگست کے بجلی کے بل مکمل طور پر معاف کر دئیے گئے ہیں۔ بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے ، سیلاب زدہ علاقوں کے گھریلو صارفین کو اگست کے بجلی کے بل ادا نہیں کرنا ہوں گے ، جنہوں نے پہلے ہی بل جمع کروا دئیے ہیں، ان کی رقم اگلے ماہ کے بلوں میں ایڈجسٹ کر دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی حکومت اپنے وسائل سے کرے گی اور یہ سیلاب متاثرین کا حق ہے ، کسی قسم کا احسان نہیں۔ زرعی اور صنعتی صارفین کے نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور ان کے اگست کے بجلی بل فی الحال موخر کئے گئے ہیں، اگر نقصانات زیادہ نکلے تو انہیں بھی مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، عوام اور فوج مل کر ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں اور متاثرہ آبادیوں کو خوراک، ادویات اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ متاثرین کی مکمل آباد کاری کے عزم پر قائم ہیں اور حکومت اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھے گی جب تک ہر متاثرہ خاندان کو دوبارہ اپنے گھر میں آباد نہ کر دیا جائے۔
علی پور ڈوب گیا، موٹروے ایم 5 بند : شجاع آباد کی مزید بستیاں زیر آب، جلالپور پیروالا سے نقل مکانی جاری، پینے کا پانی کھانا ہے نہ خیمے : متاثرین کا احتجاج

Leave a Reply