Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
جعلی ڈگری کیس:اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے ر وک دیا گیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

جعلی ڈگری کیس:اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے ر وک دیا گیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جعلی ڈگری کیس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ تک بطور جج کام کرنے سے روک دیا۔اور سینئر قانون دان بیرسٹر ظفر اللہ اور اشتر علی اوصاف کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے بھی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر معاونت طلب کرلی۔جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کے خلاف میاں داؤد کی درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار عدالت پیش نہ ہوئے اور معاون وکیل کی جانب سے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، اسلام آباد بارکونسل کے ارکان علیم عباسی، عادل عزیزقاضی، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید واجد علی گیلانی، سیکرٹری منظور احمد ججہ، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم گجر اور دیگر عہدیداروں سمیت وکلا کی کثیر تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ سماعت کے آغاز میں ہی عدالت نے روسٹرم پر موجود غیر متعلقہ وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کی،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگر قابلِ سماعت ہونے پر سوالات فریم کریں گے تو آپ آ جائیے گا ، اگر نوٹس کریں گے تو پھر دیکھیں گے ۔اسلام آباد بارکونسل کے ممبر راجہ علیم عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ جوڈیشل کمیشن کا اختیار ہے ، ایسی درخواستوں سے خطرناک ٹرینڈ قائم ہوگا،سپریم کورٹ کے دو فیصلے اس حوالے سے موجود ہیں، لہٰذا اس درخواست پر اعتراضات برقرار رہنے چاہئیں، ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں فریق ہیں؟چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حق سماعت کسی کا بھی حق ہے لیکن ہمیں آفس کے اعتراضات کو دیکھنا ہے ،عدالت نے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ آنے تک کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رہے گا،عدالت کے سامنے ایک اہم سوال ہے جس کو دیکھنا ہے ،اگر معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا ہو تو کیا ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے ؟،عدالت نے معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا ہونے کے باعث سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک سماعت ملتوی کر دی اور حکمنامہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جوڈیشل ورک سے روک دیا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک بطور جج کام سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے سینئر قانون دان بیرسٹر ظفر اللہ خان اور اشتر علی اوصاف کو عدالتی معاون مقرر کردیاگیا جبکہ اٹارنی جنرل سے بھی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر معاونت طلب کرلی گئی ہے ۔بعد ازاں اسلام آبا د ہائیکورٹ نے چیف جسٹس کی منظوری کے بعد جسٹس طارق محمود جہانگیری کا ڈویژن بینچ اور سنگل بینچ ختم کرتے ہوئے نیا ڈیوٹی روسٹر جاری کردیا، روسٹر کے مطابق آج17 ستمبر سے 19 ستمبر تک تین ڈویژن اور چھ سنگل بینچز دستیاب ہوں گے ، پہلا ڈویژن بینچ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان، دوسرا ڈویژن بینچ جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجازاسحاق خان جبکہ تیسرا ڈویژن بینچ جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ہوگا، دوسرا ڈویژن بینچ صرف ٹیکس سے متعلق معاملات والے کیسز کی سماعت کرے گا، روسٹر کے مطابق سنگل بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس ثمن رفعت امتیاز، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس بھی دستیاب ہوں گے ۔ذرائع کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، تحریری حکمنامہ ملنے کے بعد اپیل تیار کی جائے گی۔ادھر اسلام آباد بار کونسل نے آج بدھ کے روز ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے جنرل باڈی اجلاس بھی طلب کرلیا۔اسلام آباد بار کونسل کی ہنگامی پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے بار کونسل کے رکن علیم عباسی نے کہا کبھی نہیں ہوا کہ ایک جج ساتھی جج کو کام سے روک دے ، آئین اور قانون کے مطابق جج کے کنڈکٹ کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہی دیکھ سکتی ہے ،یہ غلط روایت ڈالی جا رہی ہے ، ہم نے عدالت میں کہا کہ ہمیں سنیں، مگر بعد میں گھر پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ حکم جاری کر دیا گیا، یہ فیصلے دباؤ اور ٹیلی فون پر کیے جا رہے ہیں، اگر آج یہ سلسلہ شروع ہوگیا تو کل ہر جج دوسرے کو کام سے روکنے لگے گا،اگر آج پشاور ہائی کورٹ کہے کہ جسٹس ڈوگر کام نہیں کرسکتے تو کیا یہی طریقہ اپنایا جائے گا؟ یہ جنگل کا قانون نافذ کرنے کے مترادف ہے ، سپریم کورٹ اس معاملے پر از خود نوٹس لے اور جسٹس جہانگیری کو کام سے روکنے کا حکم معطل کرے ،سپریم جوڈیشل کونسل کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ تسلیم کیا جائے گا۔
آج اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹ میں مکمل ہڑتال ہوگی۔ جنرل باڈی اجلاس کے بعد وکلا ریلی بھی نکالیں گے ۔ کراچی بار نے بھی جسٹس طارق محمود پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے آج یوم سیاہ منانے اور ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعظم خان کو جوڈیشل کام سے روکنے اور عہدے سے ہٹانے کیلئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ،راجہ مسعود الرحمن ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس اعظم خان کی اسلام آباد جوڈیشل سروس میں مستقلی اور بعد ازاں ترقی غیرقانونی ہے ، جسٹس اعظم خان کو ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد جوڈیشل سروس میں ٹرانسفر کیا گیا تھا جبکہ رولز کے تحت صرف وہی ججز مستقل کیے جا سکتے تھے جو پہلے سے اسلام آباد جوڈیشل سروس میں کام کر رہے تھے ،ڈیپوٹیشن پر آنے والے ججز کو مستقل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی،چونکہ جسٹس اعظم خان اسلام آباد جوڈیشل سروس میں مستقلی اور ترقی کے اہل نہیں تھے ، اس لیے انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج بھی نہیں بنایا جا سکتا تھا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *