لاہور: پنجاب میں کم از کم تنخواہ کے حالیہ نوٹیفکیشن نے مزدوروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کے بعد کٹوتیوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ورکرز کو اصل تنخواہ محض 33,600 روپے ملے گی۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کھانا، ٹرانسپورٹ اور رہائش کی مد میں صرف 558 روپے کٹوتی کی اجازت تھی، مگر نئے نوٹیفکیشن کے تحت یہ کٹوتی بڑھا کر 6,400 روپے کر دی گئی ہے ۔ اس اقدام کو مزدور تنظیموں نے تنخواہ میں اضافے کے بجائے کمی قرار دیا ہے ۔مزدور اتحاد کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت اعلان شدہ 40 ہزار روپے کی کم از کم اجرت عملاً 33,600 روپے تک محدود ہو گئی ، جو پچھلے سال کی 37 ہزار روپے اجرت سے بھی کم ہے ۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پنجاب کا یہ فیصلہ دیگر صوبوں سے متصادم ہے جہاں اس نوعیت کی کٹوتیاں نہیں کی جاتیں۔

Leave a Reply