Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
پاکستان میں 3 سال کے دوران غربت 7 فیصد بڑھی، 25.3 فیصد تک پہنچ گئی: ورلڈ بینک – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

پاکستان میں 3 سال کے دوران غربت 7 فیصد بڑھی، 25.3 فیصد تک پہنچ گئی: ورلڈ بینک

اسلام آباد،نیویارک:ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں قومی غربت کی شرح جو 02-2001 میں 64 اعشاریہ 3 فیصد سے مسلسل کم ہو کر 18 اعشاریہ 3 فیصد تک آگئی تھی، 2020 سے دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔عالمی بینک کی جانب سے پاکستان میں غربت کے متعلق رپورٹ جاری کر دی گئی ،عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر پاکستان بولورما امگابازار نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں غربت کی موجودہ شرح 25اعشاریہ 3 فیصد ہے اور گزشتہ 3 سال میں غربت کی شرح میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا،جس سے 1 کروڑ 75 لاکھ افراد مزید غربت کا شکار ہو گئے ہیں۔ 25 کروڑ میں سے 6 کروڑ افراد غربت کی زندگی گزار رہے ، 4 کروڑ 12 لاکھ افراد روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 9 سو روپے سے کم کماتے ہیں، 2022 میں پاکستان میں غربت کی شرح 18اعشاریہ3 فیصد تھی۔24-2023 میں غربت کی شرح بڑھ کر 24اعشاریہ 8 فیصد ہوگئی اور 25-2024 میں غربت کی شرح 25اعشاریہ3 فیصد ہو گئی، 2001 سے 2015 تک پاکستان میں غربت کی شرح میں سالانہ 3 فیصد کمی ہوئی۔2015 سے 2018 تک پاکستان میں غربت کی شرح میں سالانہ ایک فیصد کمی ہوئی اور 2022 کے بعد غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ، 2020 میں غربت کی شرح میں کورونا کے بعد اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 19-2018 کے بعد ہاؤس ہولڈ سروے نہیں کیا گیا، زرعی انکم کے علاوہ دیگر ذرائع آمدن سے غربت کی شرح کم ہو رہی ہے ، اور 57 فیصد نان ایگری انکم سے غربت کم ہوئی جبکہ 18 فیصد زرعی آمدن سے غربت کم ہوئی۔ترسیلات زر اور دیگر شعبوں میں آمدن بڑھنے سے غربت کم ہوئی، 2011 سے 2021 میں لوگوں کی آمدن میں صرف 2 سے 3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کم آمدن شعبوں میں 85 فیصد لوگ ملازمت کرتے ہیں اور غیر رسمی شعبوں میں 95 فیصد لوگ ملازمت کرتے ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی آبادی 60 سے 80 فیصد شہری علاقوں میں مقیم ہے اور 39 فیصد آبادی شہروں میں مقیم ہے ۔رپورٹ کے مطابق غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات مختلف جھٹکے ہیں، جن میں کوویڈ-19، مہنگائی، سیلاب اور میکرو اکنامک دباؤ شامل ہیں ،لیکن اس کی ایک وجہ وہ کھپت پر مبنی ترقیاتی ماڈل بھی ہے ، جس نے ابتدائی کامیابیاں تو دیں لیکن اب اپنی حد کو پہنچ چکا ہے ۔اس مسئلے کے حل کے لیے رپورٹ میں غریب اور کمزور خاندانوں کے تحفظ، روزگار کے مواقع میں بہتری اور بنیادی خدمات تک سب کی رسائی کو بڑھانے کے لیے پائیدار اور عوام مرکوز اصلاحات پر زور دیا گیا ہے ۔جائزے سے معلوم ہوا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں غربت میں کمی کی بڑی وجہ غیر زرعی محنتانہ آمدنی میں اضافہ تھا، کیوں کہ زیادہ گھرانے کھیتی باڑی چھوڑ کر کم معیار کی خدمات کی ملازمتوں کی طرف منتقل ہوگئے تھے ۔سست اور غیر متوازن ڈھانچہ جاتی تبدیلی نے متنوع معیشت، روزگار کے مواقع اور شمولیتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، اس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں کم پیداواری صلاحیت نے آمدنی کے بڑھنے کو محدود کیا، اب بھی 85 فیصد سے زائد ملازمتیں غیر رسمی ہیں اور خواتین اور نوجوان بڑی حد تک لیبر فورس سے باہر ہیں۔رپورٹ میں گزشتہ 25 برس کے سرکاری گھریلو سرویز، نئے تخمینے ، جغرافیائی تجزیہ اور مختلف انتظامی ڈیٹا ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ کمزور طبقات کو تحفظ دیا جائے ، انسانوں، جگہوں اور مواقع پر سرمایہ کاری کی جائے ، تاکہ خاص طور پر پسماندہ طبقوں کے لیے انسانی سرمائے کی کمی کو پورا کیا جا سکے ، صحت، تعلیم، رہائش، پانی اور صفائی جیسی عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی طرز حکمرانی کو مضبوط کرنا ضروری ہے ۔گھرانوں کی لچک میں اضافہ کیا جائے ، تاکہ سماجی تحفظ کے نیٹ ورک مؤثر اور سب کو شامل کرنے والے بن سکیں، ترقی پسند مالیاتی اقدامات اختیار کیے جائیں، بلدیاتی مالیات کو بہتر بنایا جائے ، غیر مؤثر اور فضول سبسڈیز کو ختم کیا جائے ، اور سب سے غریب طبقے کے لیے ہدف پر مبنی سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے ۔عالمی بینک نے رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ بروقت ڈیٹا سسٹمز میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ فیصلوں کو رہنمائی مل سکے ، وسائل کو درست ہدف تک پہنچایا جا سکے ، اور نتائج کا سراغ لگایا جا سکے ۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ انٹرنیشنل پاورٹی ریٹ کے تناسب سے پاکستان میں 45 فیصد کیساتھ خطے میں سب سے زیادہ غربت ہے ، انٹرنیشنل پاورٹی ریٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں اوسطاً 27اعشاریہ7 فیصد غربت ہے ، بھارت میں 23اعشاریہ 9 فیصد، بنگلہ دیش میں 24اعشاریہ 4 فیصد، سری لنکا میں 11اعشاریہ 5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔پاکستان میں 16اعشاریہ 5 فیصد آبادی کا حصہ تقریباً 4 کروڑ 12 لاکھ افراد روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 9 سو روپے سے کم کماتے ہیں پاکستان میں 4اعشاریہ 7 فیصد آبادی کا حصہ روزانہ کی بنیاد پر 4اعشاریہ 20 ڈالر کماتے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی کو کنٹرول کیے بغیر غربت کنٹرول مشکل ہو گا پاکستان میں آبادی کی گروتھ سالانہ 2اعشاریہ6 فیصد تک بڑھ چکی ہے اور اوسطاً ایک عورت 4 بچے پیدا کر رہی ہے جو کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں سب سے زیادہ ہے ، چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں ریکارڈ کی گئی مالی سال 2019 تک بلوچستان میں غربت کی شرح تقریباً 42 فیصد، خیبرپختونخوا میں 30 فیصد تک، سندھ میں 25 فیصد سے کم اور پنجاب میں 15 فیصد تک ریکارڈ کی گئی خیبرپختونخوا میں 2016 سے 2019 تک غربت کی شرح 18 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچی پاکستان کا عالمی سطح پر زہریلی گیسز چھوڑنے میں 1 فیصد سے کم حصہ ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی والے ممالک میں 10 واں نمبر ہے جس کے باعث 2050 تک جی ڈی پی کا 8 فیصد تک ضائع ہو سکتا ہے ۔ سیلاب جیسی قدرتی آفات کے باعث فوڈ سکیورٹی، صحت اور بنیادی سروسز کے مسائل بڑھنے کا خدشہ

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *