Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
بڑے صوبوں میں عام آدمی کی شنوائی نہیں ،سسٹم بوسیدہ، کام کرنا ناممکن:میاں عامر محمود – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

بڑے صوبوں میں عام آدمی کی شنوائی نہیں ،سسٹم بوسیدہ، کام کرنا ناممکن:میاں عامر محمود

اسلام آباد: چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے ملک میں گورننس کے مسائل اور اس کے حل کے سلسلے میں ’’امیجنگ پاکستان ‘‘کے تحت سیمینار میں شرکت کی اور یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب کیا۔ سیمینار میں طلبا کی جانب سے سوالات بھی کیے گئے۔ اس موقع پر میاں عامر محمود نے کہا کہ موجودہ سسٹم بوسیدہ ہو چکا ہے اور اس سسٹم کے ہوتے ہوئے کام کرنا ناممکن ہے۔جتنا بڑا صوبہ ہوگا اتنے زیادہ اخراجات ہونگے ، چھوٹے انتظامی یونٹس سے اخراجات میں کمی آئے گی۔ ملک میں کئی سرکاری سکولز ہیں جن میں صرف ایک ہی ٹیچر ہے ۔ پنجاب میں 7 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، پختونخوا میں 11 فیصد، بلوچستان میں 41 فیصد، گلگت بلتستان میں 36 فیصد، آزاد کشمیر میں 6.7 فیصد اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 1.6 فیصد ایسے سکولز ہیں جن میں صرف ایک ایک ہی ٹیچر ہے اور وہ سب کچھ پڑھاتے ہیں۔پنجاب حکومت نے کئی سکولز این جی اوز کو دئیے ہیں اور فی طالب علم 4 ہزار 400 روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔ یہ معمولی رقم نہیں ۔سرکاری سکولز کی بلڈنگز اور انفراسٹرکچر بھی پرائیویٹ سیکٹر سے بہتر ہے لیکن پھر بھی سرکاری سکولز میں پڑھائی نہیں ہوتی اور اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ بڑے انتظامی یونٹس کے ہوتے ہوئے مینجمنٹ ممکن نہیں۔اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ نئے اور چھوٹے صوبے بنائے جائیں۔صوبے جتنے چھوٹے ہوں گے اتنا عام آدمی کی بات سنی جائے گی۔ بڑے صوبوں میں بات سنی نہیں جاتی۔موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے پہلے ہی ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں اور جو سکولز جا بھی رہے ہیں ان کی تعلیم معیاری نہیں۔70 فیصد بچے ایسے ہیں جو ساتویں کلاس میں ہیں لیکن وہ اپنے سے چھوٹی کلاس کی کوئی کتاب نہیں پڑھ سکتے ۔مہذب معاشرے میں اگر بچہ کی عمر سکول جانے کی ہو اور وہ نہ جائے تو یہ جرم ہوتا ہے لیکن پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں۔میاں عامر محمود نے نظامِ صحت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب سرکاری ہسپتال میں ایک بیڈ پر سالانہ 60 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے لیکن وہاں پر کوئی معیاری علاج نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے بہتری نہیں آ سکتی کیونکہ گزشتہ 79 سالوں میں ہم کوئی بہتری نہیں لا سکے ۔ملک میں نظامِ انصاف پر بات کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ عدالتوں میں کیسز کئی کئی سال لگے ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک ملزم کو ایک کیس میں بری کر دیا لیکن بعد میں پتا چلا کہ اس کو تو پھانسی دی جا چکی ہے ۔ ہم ان 79 سالوں کے دوران پبلک ویلفیئر فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ہمارے ملک میں اگر کوئی ڈیویلپمنٹ ہوتی بھی ہے تو سیاسی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے اور ہم ایسی جگہ ڈیویلپمنٹ کرتے ہیں جس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا۔ ہم نے پورے ملک میں صرف پانچ دارالحکومتوں میں ترقیاتی کام کیے اور اس کا نقصان یہ ہوا کہ بڑے شہروں میں ہر سال لوگ دیگر علاقوں سے آتے ہیں، لاہور کی کچی آبادیوں میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *