لاہور:لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ انجینئرنگ پر کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت سے لیے گئے اربوں روپے کے فنڈز کے استعمال کی مکمل جانچ پڑتال ہوگی۔شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایل ڈی اے نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ماضی میں بے ضابطگیوں کے کیسز سامنے آنے کے بعد اب سخت احتسابی عمل شروع کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے گرد گھیرا مزید سخت کر دیا گیا۔ پنجاب حکومت سے گرانٹ ان ایڈ کے تحت حاصل کیے گئے دس ارب روپے کے فنڈز کے خرچ کا ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے واضح کیا تھا کہ عوامی پیسے کے استعمال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ جو فنڈز ایل ڈی اے کو فراہم کیے گئے ، ان کی ایک ایک پائی کا حساب دینا لازمی ہے ۔اسی ہدایت پر ایل ڈی اے نے شفافیت یقینی بنانے کے لیے چار رکنی سپیشل کمیٹی قائم کر دی ہے ۔ایڈیشنل ڈی جی ہاؤسنگ کمیٹی کے کنوینر ہوں گے ، جبکہ ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی، ڈائریکٹر انجینئرنگ اور پریذیڈنٹ نیسپاک کو ممبر نامزد کیا گیا ہے ۔اب کسی بھی منصوبے کا بل فنانس ونگ میں جانے سے پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی فنڈز جاری ہوں گے تاکہ مالی بے ضابطگی کا کوئی امکان نہ رہے ۔ماضی میں انجینئرنگ ونگ میں متعدد منصوبوں پر اضافی اخراجات اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

Leave a Reply