کراچی:چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)راشد محمود لنگڑیال نے ملک بھر کے گولڈ ٹریڈرز کو 30ستمبر تک ٹیکس نیٹ میں آنے اور حقیقی اعداد و شمار پر مبنی ریٹرن جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے۔خبردار کیا کہ بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔چیئرمین ایف بی آر سے آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی جس میں گولڈ سیکٹر سے منسلک ٹیکس معاملات ، رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے وفد کو آگاہ کیا کہ ملک بھر میں فی الوقت صرف 35 ہزار گولڈ ٹریڈرز ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں جو کہ ناکافی ہیں، اسکے علاوہ ان میں سے بھی محض 15 ہزار ٹریڈرز نے سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کیے ہیں اور ان میں سے 14 ہزار ٹریڈرز نے اب تک ریٹرن ہی جمع نہیں کرائے جبکہ6ہزار جیولرز نے صفر ریٹرن جمع کرائے ہیں۔ انہوںنے رجسٹرڈ جیولرز کی مکمل فہرست ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے حوالے کر دی ۔چیئرمین نے واضح کیا کہ گولڈ ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ حقیقی اعداد و شمار کے ساتھ ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں، ورنہ ادارہ مجبوراً قانون کے تحت کارروائی کرے گا ۔ ایسوسی ایشن کے صدر قاسم شکارپوری نے دنیا نیوز کو بتایا کہ ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کی فراہم کردہ فہرست پر کام شروع کر دیا ہے اور اپنے ممبران کو ٹیکس نیٹ میں آنے کیلئے متحرک کر دیا گیا ہے ۔ آئندہ پیر کو اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ دوبارہ ملاقات ہوگی جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
گولڈ ٹریڈرز کو 30ستمبر تک ٹیکس نیٹ میں آنے کی ہدایت

Leave a Reply