Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
چینی کی ڈبل سنچری،انتظامیہ قیمت کنٹرول کرنے میں ناکام – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

چینی کی ڈبل سنچری،انتظامیہ قیمت کنٹرول کرنے میں ناکام

فیصل آباد:چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور شہریوں کو سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق مقرر کردہ نرخ پر فراہمی یقینی بنانے میں ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر متعلقہ ادارے مکمل ناکامی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔مارکیٹ میں چینی کی قیمت ڈبل سنچری سے بھی تجاوز کر چکی ہے ۔ حکام کی جانب سے ہول سیل مارکیٹ اور مینوفیکچررز کے خلاف کارروائیاں کرنے کے بجائے پرچون مارکیٹ میں زائد نرخوں پر فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائیاں کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ اس صورتحال کے باعث متعدد دکانداروں نے کارروائیوں اور بھاری جرمانوں سے بچنے کے لئے چینی رکھنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ اداروں کے لئے ایک مشکل ترین ٹاسک بن گیا ہے ۔ حکومتی سطح پر مقررہ کردہ قیمت پر عملدرآمد کروانے میں متعلقہ محکمے مبینہ طور پر مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں قائم دکانوں پر چینی کی قیمت ڈبل سنچری سے تجاوز کر جانے کے باعث عام آدمی کے لئے اس کی خریداری تقریباً ناممکن ہو چکی ہے ۔ دکانداروں کا شکوہ ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور دیگر ادارے پرچون فروشوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں لیکن ہول سیل ڈیلرز اور مینوفیکچررز کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ ان کے بقول جب ہول سیل مارکیٹ سے چینی مہنگی خریدی جاتی ہے تو پرچون پر بھی وہی مہنگے داموں فروخت کرنا پڑتی ہے ۔ایسی صورتحال میں خریداروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مارکیٹ میں چینی کی عدم دستیابی اور قیمتوں کے بے تحاشا اضافے پر شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم ہو سکے اور روزمرہ استعمال کی یہ بنیادی ضرورت عوام کی پہنچ سے مزید دور نہ ہو۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *