کوئٹہ:بلوچستان ہائیکورٹ نے مجسٹریسی نظام کی بحالی کیلئے صوبائی کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے جس کے تحت صوبے بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے اختیارات تفویض کیے گئے تھے۔چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے افتخار احمد لانگو کی جانب سے دائر آئینی درخواست بنا م حکومت بلوچستان کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی کابینہ نے 24 ستمبر 2025 کو ایک فیصلہ منظور کیا تھا جس کے ذریعے ایگزیکٹیو افسروں کو عدالتی نوعیت کے اختیارات دے دیے گئے ہیں، جو آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ درخواست گزار کے مطابق عدالت عالیہ بلوچستان نے اپنے ایک سابقہ فیصلے (PLD 2012 بلوچستان 57: محمد کامران خان ملاخیل و دیگر بنام حکومت بلوچستان) میں یہ اصول طے کیا تھا کہ ایگزیکٹیوز کو عدالتی اختیارات دینے کا عمل ابتدا ہی سے غیر قانونی ہے ۔ مزید کہا گیا کہ ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 14 کے تحت صوبائی کابینہ کے پاس مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے اختیارات تفویض کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ عدالت نے اعتراضات کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت اور دیگر جواب دہندگان کو نوٹس جاری کر دیا۔ ساتھ ہی ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی آرڈر XXVII-A سی پی سی کے تحت نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔ مزید سماعت تک صوبائی کابینہ کے 24 ستمبر 2025 کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ : مجسٹریسی نظام بحالی پر عملدرآمد معطل

Leave a Reply