اسلام آباد، لاہور : پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کے پیش نظر اہم ملاقات ہوئی جس میں افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہوئی جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینیٹر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ شریک تھے ، جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے کی۔ذرائع کے مطابق نوید قمر نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو پیغام دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو سخت بیانات سے گریز کرنا چاہیے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان منفی بیانات سے نہ صرف اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ سیاسی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ ملاقات میں دونوں جماعتوں نے اصولی اتفاق کیا کہ بیانات کے تبادلے سے پیدا ہونے والے تناؤ کو ختم کیا جائے اور حکومتی پالیسیوں پر توجہ دی جائے ۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مریم نواز کے حالیہ بیانات پر اعتراضات اٹھائے جبکہ ایاز صادق نے امید ظاہر کی کہ اتحادی جماعتیں قومی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھیں گی۔ ذرائع کے مطابق اگر معاملات طے نہ ہوئے تو پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد میں رہنے یا نہ رہنے پر اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں مشاورت کرے گی۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے حکومت کو وزارتوں میں حصہ لیے بغیر سپورٹ کیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ (ن) جو چاہے کرے اور ہم خاموش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا لہجہ مناسب نہیں، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ردعمل میں کہا کہ پیپلز پارٹی رہنما پنجاب حکومت کے خلاف مسلسل پریس کانفرنسز کر رہے ہیں، یہ رویہ دراصل پنجاب کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی مقبولیت اور عوامی خدمت پر فخر ہے ، پیپلز پارٹی کو بھی اپنی عوامی حمایت پر توجہ دینی چاہیے ۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت سے تعاون کو مریم نواز کے سندھ سے متعلق بیانات کی واپسی سے مشروط کردیا ہے جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پیپلز پارٹی سے اس سلسلے میں وقت مانگ لیا ہے ۔ دوسری جانب پی ٹی آئی بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتی خلیج پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں اپنے بانی چیئرمین کی ہدایات کی منتظر ہے۔

Leave a Reply