خطے میں قیام امن ، انسداد دہشتگردی ، معاشی تعاون پر اتفاق: اعلامیہ صادق خان کی افغان وزیر خارجہ سے ملاقات، دہشتگردی کامعاملہ اٹھایا
ماسکو،اسلام آباد : روسی دارالحکومت میں افغانستان کے معاملے پرماسکو فارمیٹ مشاورت کے ساتویں اجلاس میں شرکا نے افغانستان اورخطے میں امن کیلئے بیرونی فوجی ڈھانچے کے قیام کوناقابل قبول قراردے دیا۔ اجلاس میں افغانستان، بھارت، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اورازبکستان کے نمائندے شریک ہوئے ۔پاکستان کی نمائندگی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق ،کابل میں تعینات پاکستانی ناظم الامور گیان چند اور سفیر عبید نظامانی نے کی ۔ محمد صادق خان نے بتایا اجلاس میں افغانستان کو دہشتگردی اور بیرونی مداخلت سے پاک کرنے پر زوردیا گیا۔ شرکا نے افغانستان میں بعض کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ،مشترکہ اعلامیے کے مطابق بیلاروس کے وفد نے بطور مہمان اجلاس میں شرکت کی، افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی پہلی باربطور رکن اجلاس میں شریک ہوئے ۔شرکا نے آزاد، متحد اورپرامن افغانستان کے قیام کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا، افغانستان اور خطے کے درمیان اقتصادی وتجارتی تعاون کے فروغ پرزور دیا۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دوطرفہ وکثیرالملکی تعاون بڑھانے پراتفاق کیا گیا اور افغان سرزمین کوکسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کیلئے موثراقدامات کی ضرورت پرزور دیا گیا۔علاوہ ازیں ماسکو فارمیٹ کی سائیڈ لائنز پر صادق خان اور طالبان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی ملاقات ہوئی جونوے منٹ تک جاری رہی ۔ صادق خان نے ایک مرتبہ پھر افغانستان کے ساتھ دہشتگردی اور سکیورٹی صورتحال کامعاملہ اٹھایا ہے ، ملاقات میں افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کی موجودگی ،سکیورٹی صورتحال ، اقتصادی تعاون، تجارت، ٹرانزٹ ٹریڈ، علاقائی سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی ۔
ماسکو فارمیٹ:افغانستان اورخطے میں بیرونی فوجی ڈھانچہ مسترد

Leave a Reply