اسلام آباد:سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں میں پاکستان بار کونسل کے چھ سابق صدور کے وکیل عابد زبیری کے دلائل مکمل نہ ہوسکے ۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے آپ پسند کریں یا نہ کریں، آرٹیکل 191 اے موجود ہے ، فل کورٹ کا لفظ آرٹیکل 191اے میں موجود نہیں۔ آرٹیکل 191اے کے ہوتے ہوئے کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آئینی بینچ کے ججز ہی فل کورٹ کو مکمل کرتے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے جس ترمیم کے تحت آئینی بینچ بنا ہے ، اس پر اعتراض ہوگا تو فیصلہ کون کرے گا؟ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی آئینی بینچ نے 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی،پاکستان بار کونسل کے چھ سابق صدور کے وکیل عابد زبیری فل کورٹ تشکیل دینے کے حوالے سے دلائل دیئے ۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کیا کسی جماعت کا حق ہوتا ہے کہ بینچ کو ہٹا کر دوسرا بینچ بنا دیا جائے ؟ کیا ہم پابند ہیں کہ بینچ تبدیل کریں؟ کیا جماعت چاہتی ہے کہ ہمیں مخصوص بینچ، یا ججز دیئے جائیں؟ وکیل عابد زبیری نے موقف اختیار کیا کہ میں نے ہمیشہ فل کورٹ بنانے کا کہا۔ جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کیوں چاہتے ہیں کہ فل کورٹ بنایا جائے ؟ عابد زبیری نے کہا آپ کے اپنے فیصلے ہیں کہ فل کورٹ ہونا چاہیے ۔جسٹس جمال مندو کیل نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں کتنے ججز ہیں؟ فل کورٹ ہو تو کیا ہوگا؟ وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں چوبیس ججز موجود ہیں۔ میں کسی جج کو غلط نہیں کہہ رہا، سب ججز عزت کے قابل ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا آپ کی درخواست کیا ہے ؟ عابد زبیری نے کہا ہماری درخواست ہے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل موجود ججز کو ہی کیس سننا چاہیے ۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا آپ کیوں چاہتے ہیں کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل ججز پر مبنی فل کورٹ بنے ؟ عابد زبیری نے کہا چھبیسویں آئینی ترمیم کو خود چیلنج کیا گیا ہے ۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا چیف جسٹس کا کیا ہوگا؟ کیا چیف جسٹس بینچ میں نہیں بیٹھیں گے ؟ عابد زبیری نے کہا چیف جسٹس کو بینچ میں بیٹھنے کا خود فیصلہ کرنا ہوگا۔ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے چیف جسٹس چھبیسویں آئینی ترمیم کے تحت بنے ہیں، اگر چھبیسویں آئینی ترمیم نہ ہوتی تو یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نہ بنتے ، کیونکہ وقت مقرر تھا، سینئر پیونی کو چیف جسٹس ہونا تھا لیکن نہیں بن سکے ۔ ہم اگر بینیفیشری ہیں تو کیا ہم بینچ میں بیٹھ سکتے ہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا تو پھر کیس کو سنے گا کون؟ وکیل عابد زبیری نے موقف اپنایا میں نے تو نہیں کہا کہ آپ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بینیفشری ہیں۔جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے یعنی آپ کہہ رہے کہ آٹھ ججز بیٹھ کر کیس کا فیصلہ کریں گے تو غلط ہوگا، آٹھ ہم بیٹھیں یا فل کورٹ میں بیٹھیں،بات تو ایک ہی ہوگی نا، آپ کو لگتاہے کہ آئینی بینچ میں ابھی آٹھ ججز بیٹھ کر متعصب ہوجائیں گے ؟ جس ترمیم کے تحت آئینی بینچ بنا ہے ، اس پر اعتراض ہوگا تو فیصلہ کون کرے گا؟ جو بھی آیا مخصوص ججز کا نہیں بتایا، بس فل کورٹ کا کہتے ہیں۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے ہم آئین کے ماتحت ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے آرٹیکل 191 اے فل کورٹ پر بات نہیں کرتا، بینچ پر بات کرتاہے ۔ جسٹس جمال مندو خیل نے کہا فل کورٹ کو بھی بینچ ہی کہاجاتا ہے ۔ جسٹس عائشہ ملک نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کو بینچ نہیں کہا جاسکتا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا آرٹیکل 191 اے صرف آئینی بینچ سے متعلق ہے ، آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن نامزد کرتا ہے ، کیا ہم ایسے ججز کو شامل کرسکتے ہیں جو آئینی بینچ کا حصہ نہ ہوں، کیا آئینی بینچ فل کورٹ تشکیل دے سکتا ہے ؟ وکیل عابد زبیری نے موقف اپنایا آئینی بینچ جوڈیشل آرڈر پاس کرسکتا ہے ، بات صرف آئینی بینچ کی ہورہی ہے ، فل کورٹ بینچ نہیں ہے ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے ہم آئینی بینچ ہیں، آپ ہم سے فل کورٹ کی استدعا کر رہے ہیں۔ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے اگر ہمارا دائرہ اختیار نہیں تو کیسے جوڈیشل آرڈر کیسے پاس کرسکتے ہیں، ہم صاف کہیں گے کہ دائرہ اختیار نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کیا جوڈیشل آرڈر پاس کرنے پر قدغن ہے ؟ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا آپ کہہ رہے کہ فل کورٹ کا معاملہ سینئر پیونی جج کو بھیجا جائے گا؟ وکیل عابد زبیری نے کہا فل کورٹ کا معاملہ پہلے چیف جسٹس کو جائے گا، اگر چیف جسٹس معاملے کو دیکھنے سے معذرت کریں گے تو سینئر پیونی جج کو بھیجا جائے گا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے چیف جسٹس کو کیسے بھیجا جائے گا؟ چیف جسٹس روسٹر کے سربراہ نہیں ہیں۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا فل کورٹ اور بینچ میں فرق ہے ؟ دونوں میں فرق واضح کریں؟ بینچز کا کانسیپٹ کہاں سے آیا؟ وکیل عابد زبیری نے موقف اختیار کیا کہ جو دستیاب ججز ہوں گے ان پر مشتمل فل کورٹ ہوگا، اگر آپکا اختیار نہیں تو فل کورٹ آج تک بنے کیسے ؟ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کیا چیف جسٹس فُل کورٹ بنانے کے پابند ہیں؟ عابد زبیری نے کہا کہیں پابندی نہیں کہ فل کورٹ نہیں بن سکتا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اعتراض اٹھایا جارہا کہ چیف جسٹس اور موجودہ آئینی بینچ چھبیسویں آئینی ترمیم کا نتیجہ ہیں، کیا آئینی بینچ فل بینچ کا آرڈر کر سکتا ہے ؟ وکیل نے موقف اپنایا آئینی بینچ جوڈیشل آرڈر پاس کرے گا، بینچ کی تشکیل ایڈمنسٹریٹو آرڈر ہوتاہے ،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ چیف جسٹس اور آئینی بینچ پر اعتراض ہے تو کیسے جوڈیشل آرڈر پاس کر سکتے ہیں؟ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا ہم بطور آئینی بینچ بیٹھے ہیں، آرٹیکل 191 اے کے تحت آئینی بینچ بنایا گیا، کیا چیف جسٹس کو ڈائریکشن دے سکتے ہیں کہ مخصوص ججز کو لگا دیں اور مخصوص ججز کو بینچ میں نہ لگائیں؟ وکیل نے موقف اپنایا آئینی بینچ کے پاس فل کورٹ کی تشکیل کی ڈائریکشن پاس کرنے کا اختیار ہے ۔جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا اگر آئینی بینچ ہے جس کے سامنے ایک ریگولر کیس مقرر ہے ، کیا ہم سن سکتے ہیں؟ وکیل نے کہا آئینی بینچ ریگولر کیس نہیں سن سکتا، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے آپ کہہ رہے ہیں کہ آئینی بینچ کیس سن تو سکتا ہے لیکن سننا نہیں چاہیے ۔ وکیل نے کہا چھبیسویں آئینی ترمیم اہم کیس ہے ، کبھی ترمیم کامیابی سے چیلنج نہیں ہوئی۔ جسٹس جمال مندو کیل نے ریمارکس دیئے پِک اینڈ چوز نہ کریں، اصول پر بات کریں۔ جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا فل کورٹ کی استدعا کرتے ہیں تو فل کورٹ کی تشکیل میں کہیں کوئی قدغن ہے ؟ ماضی میں کئی بار فل کورٹ کی تشکیل ہوچکی ہے ، فل کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں تھا، آپ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل کے ججز پر مبنی فل کورٹ چاہتے ہیں؟ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے وزیراعظم اور کابینہ حکومت ہوتی ہے ، چیف جسٹس اور ججز سپریم کورٹ ہوتے ہے ۔ آپ فل کورٹ چاہتے لیکن محدود کررہے ہیں، چوبیس ججز پر مبنی فل کورٹ کیوں نہیں کہہ رہے ؟ آپ فلاں فلاں ججز پر مبنی فل کورٹ نہیں کہہ سکتے ، آپ صرف فل کورٹ کی استدعا کریں۔چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل والے ججز پر فل کورٹ چاہیے تو سپریم کورٹ سے کچھ ججز کو نکالنا ہوگا،عابد زبیری نے کہا میں یہ نہیں کہہ رہاکہ سپریم کورٹ سے ججز کو نکال دیں،فل کورٹ کے ذریعے معاملے پر تمام ججز کی اجتماعی دانش آجائے گی۔ جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا آپ بتائیں 17 ججز کا ہی فل کورٹ کیوں؟ 24 ججز کا کیوں نہیں؟ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے آپ پسند کریں یا نہ کریں، آرٹیکل 191اے موجود ہے ، فل کورٹ کا لفظ آرٹیکل 191اے میں موجود نہیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ چیف جسٹس کو معاملہ بھیجیں کہ وہ فل کورٹ بنائیں، آرٹیکل 191 اے کے تحت اب چیف جسٹس کا اختیار ہی نہیں رہا، آپ کہہ رہے ہیں کہ چھبیسویں ترمیم والے ججز کو فل کورٹ کا حصہ نہ بنائیں، آپ جن ججز کو فل کورٹ میں لانا چاہ رہے ہیں وہ ججز تو ہیں لیکن آئینی بینچ کے ججز نہیں، آرٹیکل 191 اے میں قدغن ہے ، آئینی معاملات آئینی بینچ ہی سنے گا، آرٹیکل 191اے کے ہوتے ہوئے کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آئینی بینچ کے ججز ہی فل کورٹ کو مکمل کرتے ہیں؟ آئندہ سماعت پر اس سوال کا جواب دیں۔ بعد ازاں سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔
26 ویں ترمیم نہ ہوتی تو یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نہ بن پاتے : جسٹس جمال مندوخیل جس ترمیم کے تحت یہ بینچ بنااسی پر اعتراض تو فیصلہ کون کریگا؟ ترمیم سے قبل ججز کا فل کورٹ کیوں چاہتے ہیں؟ استفسار فل کورٹ کوبینچ کہاجاتا:جسٹس مندوخیل،یہ بینچ نہیں ہوتا:جسٹس عائشہ ، آرٹیکل 191 A میں فل کورٹ کا لفظ نہیں:جسٹس نعیم کیا آئینی بینچ فل بینچ کا آرڈر کر سکتا ہے ؟ جسٹس مسرت،ہم آئین کے ماتحت ہیں:جسٹس امین الدین، دلائل جار ی

Leave a Reply