Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
ہسپتالوں میں مریضوں کا رش ایئر کوالٹی انڈیکس 550سے تجاوز کر گیا ، مریضوں کی تعداد روزانہ 500سے اوپر پہنچ گئی، زہریلے ذرات اور کاربن کے اخراج نے سانس لینا مشکل بنا دیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

ہسپتالوں میں مریضوں کا رش ایئر کوالٹی انڈیکس 550سے تجاوز کر گیا ، مریضوں کی تعداد روزانہ 500سے اوپر پہنچ گئی، زہریلے ذرات اور کاربن کے اخراج نے سانس لینا مشکل بنا دیا

فیصل آباد:سموگ کے باعث ہسپتالوں میں سانس، گلے اور آنکھوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے ۔الائیڈ، ڈی ایچ کیو اور دیگر سرکاری ہسپتالوں میں یومیہ مریضوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی۔ماحولیاتی رپورٹس کے مطابق شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل پانچویں روز بھی 550 سے زائد ریکارڈ کیا گیا جو انتہائی خطرناک سطح قرار دی جاتی ہے ۔فیصل آباد میں سموگ کی شدت نے شہریوں کی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والے دھوئیں نے فضا کو زہریلا بنا دیا ہے ۔سانس، گلے ، ناک، آنکھوں اور جلدی امراض میں مبتلا مریض بڑی تعداد میں ہسپتالوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ماہرینِ طب کے مطابق فضا میں موجود زہریلے ذرات اور کاربن کے اخراج نے سانس لینا مشکل بنا دیا ہے ، جس کے باعث بچے ، بزرگ اور دمہ کے مریض زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سموگ کی شدت برقرار رہی تو اسپتالوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے ۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فیکٹریوں کے دھوئیں اور گاڑیوں کے اخراج پر سخت کارروائی کی جائے ۔مزید یہ کہ سکولوں میں ماسک کے استعمال اور کھلی فضاء میں سرگرمیوں پر پابندی کو یقینی بنایا جائے ۔ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں، ماسک کا لازمی استعمال کریں، اور آنکھوں کو صاف پانی سے دھو کر خشک فضا کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *