اسلام آباد:استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ، پاکستان نے دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نیست و نابود کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائینگے ۔ وزیراطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کی سلامتی قومی ترجیح ہے اور حکومت دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کرتی رہے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان نے الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا اور مذاکرات کسی قابلِ عمل نتیجے پر نہ پہنچ سکے ، افغان وفد نے مذاکرات کے بنیادی مدعے سے انحراف کیا اور ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔افغان طالبان اور میزبان ممالک نے پاکستان کے شواہد تسلیم کیے مگر کوئی یقین دہانی نہ کرائی گئی۔ پاکستان قطر، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کا ان کی مخلصانہ کوششوں پر شکر گزار ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے ،مذاکرات کے دوران افغان طالبان وفد نے پاکستان کے منطقی اور جائز مطالبات تسلیم کیے ۔ وفاقی وزیراطلاعات نے بتایاچار برسوں کی جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ،قطر اور ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے امن کے لیے ایک اور موقع دیا،دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کا واحد ایجنڈا دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنا تھا۔پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد مذاکرات کیے مگر افغان فریق نے پاکستان کے نقصانات سے بے نیازی دکھائی۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کے امن و خوشحالی کے لیے قربانیاں پیش کیں۔ افغان طالبان، افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، طالبان حکومت افغان عوام کی نمائندہ نہیں اور اپنی بقا کے لیے جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے ، افغان طالبان کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی مسلسل حمایت پر پاکستان کی کوششیں بے سود رہیں، پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دوحہ معاہدے کے تحریری وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا،بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج (TTP) اور فتنہ الہند (BLA) کی سرحد پار دہشت گردی پر بارہا احتجاج کیا۔
استنبول : طالبان سے مذاکرات بے نتیجہ، پاکستان کا دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کا اعلان دہشتگردوں انکے ٹھکانوں ،سہولت کاروں کو نیست و نابود کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائینگے ، صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ،قطر ،ترکیہ کی درخواست پر امن کاایک اور موقع دیا مذاکرات کا واحد ایجنڈا دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین کااستعمال روکنا تھا،افغان طالبان نے الزام تراشی، حیلے بہانوں کا سہارا لیا ،شواہد تسلیم کیے مگر یقین دہانی نہ کرائی:وزیراطلاعات

Leave a Reply