کراچی :پاک افغان مذاکرات میں تعطل ، شیئرز سودوں کے 100 ارب روپے سے زائد مالیت کے تصفیے ، بلو چپ کمپنیوں کے توقعات کے برعکس مالیاتی نتائج ، آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم میں تاخیر اور شرح سود کا 11فیصد پر برقرار رہنا اسٹاک مارکیٹ کو کاروباری ہفتے کے چوتھے روز مندی سے شدید مندی میں مبتلا کرگیا۔ 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز530 پوائنٹس بڑھ کر 1لاکھ 58ہزار 996پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے ہوا ،ایک موقع پر انڈیکس تیزی سے 1042 پوائنٹس اضافے سے یومیہ 1 لاکھ 59 ہزار 507 پوائنٹس کی نفسیاتی حد تک ٹریڈ ہوا، تاہم اسکے بعد مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل حصص کی فروخت کا دباؤ اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کو شدیدمندی میں مبتلا کرگیا۔اسی تناظر میں 100 انڈیکس دوران ٹریڈنگ 2 ہزار 200سے زائد پوائنٹس کم ہوکر دوران ٹریڈنگ 3 نفسیاتی حدیں 1 لاکھ 59ہزار ، 1لاکھ 58ہزار اور 1لاکھ 57ہزار کی سطح سے گر کر یومیہ 1لاکھ 56 ہزار 327 پوائنٹس کی نفسیاتی حد تک ٹریڈ ہوا ۔دوران ٹریڈنگ سرمایہ کاروں نے آئل اینڈ گیس ، بینکنگ، سیمنٹ ، فارما، فرٹیلائزر کمپنیوں کے شیئرز فروخت کرنے کو ترجیح دی، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 1 ہزار 732 پوائنٹس کمی سے 1 لاکھ 56 ہزار 732 پوائنٹس پر بند ہوا،اسی طرح کے ایس ای 30 اور آل شیئرز انڈیکس 894 پوائنٹس گھٹ کر 95664 پوائنٹس پر بند ہوا ۔اس دوران سرمایہ کاروں کو 239ارب روپے کا نقصان ہوا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 18 ہزار 462 ارب روپے رہ گیا۔
اسٹاک ایکسچینج :1732پوائنٹس کی مندی،239ارب خسارہ بینکنگ، سیمنٹ،فرٹیلائزر اورفارما کمپنیوں کے شیئرز فروخت کرنے کو ترجیح انڈیکس 1لاکھ 56ہزار 732پوائنٹس پر بند،حجم18ہزار 462ارب رہ گیا

Leave a Reply