Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
پاکستان،افغانستان جنگ بندی کے تسلسل پر متفق :نگرانی اور تصدیق کا باقاعدہ نظام قائم ہو گا خلاف ورزی پر سزا وار ٹھہرایا جائیگا:ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جنگ بندی افغانستان سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی نہ ہونے ، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف اقدامات سے مشروط، مزید تفصیلات اور طریقہ کار 6 نومبر کو استنبول کے اعلیٰ سطح اجلاس میں طے ہونگے پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا :آرمی چیف عاصم منیر کا پشاور میں جرگے سے خطاب،قبائلی عمائدین کا مکمل تعاون کرنے کے عزم کااظہار – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

پاکستان،افغانستان جنگ بندی کے تسلسل پر متفق :نگرانی اور تصدیق کا باقاعدہ نظام قائم ہو گا خلاف ورزی پر سزا وار ٹھہرایا جائیگا:ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جنگ بندی افغانستان سے پاکستان کیخلاف دہشتگردی نہ ہونے ، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف اقدامات سے مشروط، مزید تفصیلات اور طریقہ کار 6 نومبر کو استنبول کے اعلیٰ سطح اجلاس میں طے ہونگے پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا :آرمی چیف عاصم منیر کا پشاور میں جرگے سے خطاب،قبائلی عمائدین کا مکمل تعاون کرنے کے عزم کااظہار

اسلام آباد:پاکستان اور افغانستان نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کرلیا، نگرانی اور تصدیق کا باقاعدہ نظام قائم ہو گا ، خلاف ورزی پر سزاوار ٹھہرایا جائے گا۔ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق استنبول میں 25 سے 30 اکتوبر تک مذاکرات ہوئے جن کا مقصد 18تا 19 اکتوبر کے دوحا مذاکرات میں طے پانے والی جنگ بندی کو مضبوط بنانا تھا۔ مذاکرات کا مقصد پاکستان کی طرف سے ایک ہی بنیادی مطالبے پر پیش رفت حاصل کرنا تھاکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے مؤثر طور پر روکا جائے اور بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں، خصوصاً فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی)اور فتنہ الہندوستان (بی ایل اے ) کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں،یہ مذاکرات کئی موقعوں پر تعطل کا شکار ہوتے دکھائی دئیے ۔ خاص طور پر ایک روز قبل صورتحال یہ تھی کہ بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پائی تھی اور پاکستانی وفد واپسی کی تیاری کر چکا تھا، تاہم میزبان ممالک ترکیہ اور قطر کی درخواست اور افغان طالبان وفد کی طرف سے پہنچائی گئی التماس کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر امن کو ایک موقع دینے کے لیے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *