Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
طالبان حکومت سے تعلقات بحال کرنا ظلم کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہیں: اقوام متحدہ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

طالبان حکومت سے تعلقات بحال کرنا ظلم کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہیں: اقوام متحدہ

نیویارک: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ طالبان حکومت سے تعلقات بحال کرنے کی کوششیں ظلم کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت سے تعلقات بحال کرنے کی کوششیں دراصل ظلم کو جواز فراہم کرنے اور افغانستان کے بحران کو مزید گہرا کرنے کے مترادف ہوں گی، انہوں نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک اصولی اور مساوات پر مبنی مؤقف اپنائیں جو افغان خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے۔رچرڈ بینیٹ جو انسانی حقوق کونسل کے تحت افغانستان میں انسانی حقوق کی نگرانی کے خصوصی نمائندے ہیں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال مسلسل بگڑ رہی ہے اور بہتری کی کوئی واضح امید نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کے خلاف منظم امتیاز، جسمانی سزاؤں میں اضافہ، جبری گمشدگیوں اور سابق سرکاری اہلکاروں پر حملوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں، باوجود اس کے کہ طالبان نے عام معافی کا اعلان کر رکھا ہے۔رچرڈ بینیٹ نے مزید کہا کہ میڈیا اور سول سوسائٹی کی آزادیوں پر پابندیاں سخت ہو چکی ہیں، اور نسلی و مذہبی اقلیتوں بالخصوص ہزارہ برادری کو جبری بے دخلی اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ طالبان کی جانب سے خواتین کے حقوق محدود کرنے والے کسی بھی حکم کو واپس نہیں لیا گیا، انہوں نے کہاکہ بہت سی افغان خواتین کو کام کرنے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ کے لیے کام کرنے والی خواتین کو بھی اپنے دفاتر میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور مساوات کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *