کراچی:ملکی معیشت میں زراعت ، ٹیکسٹائل ،سیمنٹ ،آٹو ، فارما ، اسٹیل سمیت دیگر شعبے بلاشبہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں مگر ان سے بھی بڑھ کر ایک ایسا شعبہ ہے جو ان پر سب حاوی ہوجاتا ہے جو ان شعبوں سمیت عالمی و مقامی کاروبار کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے اور معاشی مسائل کا تدارک بھی کرتا ہے اور وہ شعبہ انشورنس سیکٹر کا ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل وفاقی انشورنس برائے محتسب مبشر نعیم صدیقی نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی پیداوار کی شرح میں موجودہ انشورنش کا نظام 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتاہے جبکہ سارک ممالک میں اسکا تناسب 2 فیصد ، خلیجی ممالک میں اسکا تناسب 3 سے 4 فیصد اور یورپی ممالک میں ملکی مجموعی پیداوار میں اس شعبے کا حصہ 6 فیصد سے بھی تجاوز کرجاتا ہے ۔ مبشر نعیم صدیقی نے بتایا کہ ماضی میں انشورنس پالیسی کو غلط زاویوں سے پیش کیا گیا جسکے باعث انشورنس سیکٹر حدود و قیود کا شکار ہوگیا ،انشورنش کی جانب راغب کرنے والے نجی ایجنٹ پالیسی کو زندگی میں آنے والی آفت یا مرنے کے بعد ملنے والی رقم تک محدود رکھتے تھے یعنی انکا رجحان صرف اور صرف لائف انشورنس پر ہی ہوتا تھا ،اسی وجہ سے عوامی حلقوں میں اس شعبے کی پذیرائی ماند پڑگئی۔ مبشر نعیم صدیقی کہتے ہیں عالمی ممالک میں گلوگار اپنی آواز کی اور کھلاڑی اپنے اعضاء کی انشورنس کروا رہے ہیں مگر یہ تمام زوائیے ہمارے ملک میں ناپید ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انشورنس انڈسٹری کی پروان سے ہی عالمی ومقامی کمپنیوں کا کاروبار کسی بھی ناگہانی آفت کا مقابلہ کرجاتا ہے ۔اسکے علاوہ مبشر نعیم صدیقی کہتے ہیں انشورنس کے ذریعے بڑے پیمانے پر ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ کاری ہوتی ہے اور اسی ضمن میں وہاں کے اشخاص انشورنس انڈسٹری کے ذریعے سرمایہ کاری کا تسلسل بحال رکھتے ہیں مگر اسکے برعکس یہاں انشورنس کی اہمیت سے ماوراء حضرات اس شعبے کو نظر انداز کرکے سرمایہ کاری سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مبشر نعیم صدیقی نے بتایا جیسے بینکنگ کے دو حصے ہوتے ہیں کنویشنل اور اسلامک بالکل ایسے ہی اسلامک انشورنس کو تکافل کہا جاتا ہے اور دوسری انشورنس کو نان اسلامک یا کنیوشنل انشورنس کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا اسلامک انشورنس کا رجحان بڑھ تو رہا ہے مگر اس میں ہونے والا اضافہ انتہائی سست ہے ،اگر حکومت انشورنش انڈسٹری کی مربوط پالیسی متعارف کرائے تو یقیناً اس انڈسٹری کے ذریعے معاشی بہتری عیاں ہوگی۔ ڈائریکٹر جنرل وفاقی محتسب اعلی برائے انشورنش نے کہا کہ زرعی انشورنس، میڈیکل انشورنس، بزنس انشورنس ، آٹوانشورنس، بحری و فضائی انشورنس سمیت تمام اقسام کی انشورنس پالیسیوں کو ایس سی سی پی سمیت وفاقی محتسب اعلی برائے انشورنس جائزہ تو لیتے ہیں مگر اس انڈسٹری سے بھرپور فائدہ لینے سے تاحال محروم ہے ،اسی تناظر میں مزید کہتے ہیں وفاقی محتسب انشورنس کا ادارہ انشورنس کمپنیوں سے متعلق شکایات کا بھرپور ازالہ کررہا ہے ۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ انشورنس انڈسٹری کو نمایاں مقام دے کر مقامی و عالمی تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے عالمی قوانین و طریقہ کار سے اہمیت کو اجاگر کیا جائے تاکہ اسکا براہ راست فائدہ ملکی اقتصادیات پر مرتب ہوسکے۔
انشورنس سیکٹر کا جی ڈی پی میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم غلط زاویوں سے پیشکش نے سیکٹر کی پذیرائی کم کی،ڈی جی انشورنس محتسب مربوط پالیسی سے انڈسٹری اقتصادیات کو سہارا دے سکتی ،مبشر نعیم صدیقی

Leave a Reply