لاہور:آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ مشکل معاشی صورتحال میں آئی ایم ایف پروگرام کو چلانا نا گزیر ہے تاہم ایٹمی صلاحیت کے حامل پاکستان کو مستقبل میں اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی قومی پالیسی بنانی ہو گی ،سرکاری ادارے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے مشکلات کا باعث ہیں ۔پیچیدہ ٹیکسیشن،غیر مشاورتی پالیسیاں کاروبار کیلئے رکاوٹ بن گئی ہیں۔ اپنے بیان میں اشرف بھٹی نے کہا کہ دنیا میں جو بھی قومیں معاشی طور پر مضبوط ہوئی ہیں انہوں نے ایڈ ہاک ازم کو خیر باد کہہ کر طویل المدت پالیسیاں بنائی ہیں ۔ہمارے ہاں ایک روز ایک پالیسی بنتی ہے اور اگلے ہی لمحوں میں نئی پالیسی آ جاتی ہے ۔ ادارے فیصلوں اور پالیسیوں کے نفاذ سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ ٹیکسیشن کے نظام کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا گیا ہے جس پر تحفظات کا اظہار کیا جائے تو یہ کہا جاتاہے کہ کاروباری لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے حالانکہ تاجر وں کی اکثریت بھاری یوٹیلیٹی بلز کے ساتھ کئی طرح کے ٹیکسز بھی ادا کر رے ہیں لیکن انہیں پھر بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف سے نجات کیلئے قومی پالیسی بنانی ہوگی، انجمن تاجران پیچیدہ ٹیکسیشن،غیر مشاورتی پالیسیاں کاروبار کیلئے رکاوٹ بن گئیں،اشرف بھٹی

Leave a Reply