لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ’’بدل دو نظام ‘‘تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کے تحت ملک گیر احتجاجی جلسوں اور دھرنوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے ، عوام کو منظم کر کے جعلی نظام ختم کرینگے ،چند لوگ آئین میں تبدیلیاں کرکے لوٹ مار کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن انہیں 25 کروڑ عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گے ، ٹی ایل پی پر پابندی لگنی چاہیے نہ ہی سیاسی بنیادوں پر عمران خان کو جیل میں رکھا جانا چاہیے ، آئین کی بالادستی و تحفظ کیلئے تحریک چلائیں گے ،آئندہ تین ماہ میں 25 شہروں میں احتجاجی جلسے اور دھرنے دینگے ، مقامی حکومتوں کوانتظامی اور مالیاتی اختیارات دئیے جائیں، فلسطین پالیسی سے انحراف کرنیوالوں کو نشان عبرت بنا دینگے ،ٹرمپ کی ثالثی میں کشمیر پر سمجھوتہ قبول نہیں کرینگے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینار پاکستان لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے 3 روزہ اجتماع عام کے آخر ی روز لاکھوں شرکاء سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ،امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب ڈاکٹر طارق امین ،امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر ،امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ ،امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ ،امیر جماعت اسلامی ہزارہ ڈویژن عبدالرزاق عباسی ،امیر جماعت اسلامی کشمیر مشتاق خان ،امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین ،سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ۔خواتین سیشن میں ڈاکٹر حمیرا طارق نے خواتین چارٹرپیش اور پینل ڈسکشن سے خطاب کیا۔ دیگر سیشنز میں برازیل سے رہنما صمود فلوٹیلاتھیاگو ایویلا،جنوبی افریقہ سے خاتون رہنما صمود فلوٹیلافاطمہ ہینڈرکس،ملائیشیا سے ڈاکٹر فوزیہ حسن،بنگلہ دیش سے نور النساء صدیقہ،یو کے سے لورین بوتھ،آسٹریلیا سے مدیحہ تبسم، رابعہ کاشف اور ثناء ابوشعبان،انڈونیشیا سے حسنہ عبید اللہ عزیز،جرمنی سے لیلیٰ زیتونی،بوسنیا سے ویلم عالم،قطر سے ناز شہزاد،بحرین سے ماہ جبین،سمیرا تاج ، تاج بی بی،مونٹی نیگرو سے الویسہ کرونوگورسکو،ترکیہ سے ایسمہ سیدوگلو،سیحم احمیتوگلو،عائشہ عطاء الرحمن اور طاہرہ عطاء لرحمن۔اردن سے ہدا حسین محمد ایتوم نے بھی شرکت کی جبکہ ایک سیشن سے اخوان المسلمون کے نمائندے شیخ حمام سعید،رہنما حکمران جماعت ملائیشیا ڈاکٹر مازلی ملک، مراکش سے سربراہ تحریک التوحیدولاحسان ڈاکٹر اوس رمال ، ترکی سے سعادت پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاتح اربکان،مرکزی رہنماحماس خلیل الحیہ ،عراق سے شیخ اسماعیل،نیلسن منڈیلا کی ساتھی ڈاکٹر فرینک ، فلپائنی رہنما مورو اسماعیل ابراہیم، نائب امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش پروفیسر مجیب الرحمن، بوسنیا سے عالیجاہ عزت بیگووچ پارٹی پروفیس یحیی ، حر یت کانفرنس کے نمائندے پروفیسر غلام محمد صفی،تیونس سے رہنما تحریک النہضہ ڈاکٹر علی بن عرفہ،قائد علماء فلسطین شیخ مروان، برہان کایا بیکن،رکن ترک پارلیمنٹ نمائندہ صدررجب طیب اردوان ڈاکٹرانس تکریتی، صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمن ودیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ ڈائریکٹر امور خارجہ ڈاکٹر آصف لقمان نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب میں مزید کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو چند لوگوں کے ہاتھوں سے نجات دلائے گی ، ہمیں اللہ کا نظام چاہئے ، جماعت اسلامی اب کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی ،سیاسی قیدیوں کو رہا ہونا چاہئے ، ہم حق بات کہیں گے چاہے حکومت کو ناگوار گزرے ،ملک میں انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہونے چاہئیں ، انتخابات کے نام پر فراڈ بند ہونا چاہئے ، پنجاب میں جعلی بلدیاتی ایکٹ کیخلاف تحریک شروع کریں گے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے فلسطین پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے عالمی استحکام فورس کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، جس نے فلسطین پالیسی سے انحراف کیا اسے نشان عبرت بنا دیں گے ، فلسطین میں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے ، پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی ہونی چاہیے ،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے روڈمیپ پر عمل کیا جائے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عام انتخابات کے اعلان تک کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے ، نواز شریف!عوام اب ہارس ٹریڈنگ کی حقیقت کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں ،پاکستان کسی کی جاگیر نہیں، ہر بلوچ، سندھی، کشمیری، پٹھان، ہزارے وال، پنجابی اور مہاجر سمیت یہاں بسنے والی تمام قومیتوں کا وطن ہے ، حکمرانوں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو یاد رکھیں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کو ایئرلفٹ کرنے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا تھا لیکن ایسا نہ ہو کہ عوام آپ کو ایئرپورٹ تک پہنچنے بھی نہ دیں ،سیاسی شخصیات کو بھی دعوت دیتا ہوں آئیں ہمارا ساتھ دیں ، تقسیم کرنے والوں کو شکست دینا ہوگی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آئین پر حملہ کیا گیا ، قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی، ہم 26ویں ، 27ویں ترامیم ،جاگیرداروں ،وڈیروں اور فارم 47 کی پیداوار کو نہیں مانتے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کراچی میں میئر سے محروم کیا گیا ہم پھر بھی کام کر رہے ہیں ، امن کی خاطر افغانستان سے معاملہ درست کیا جائے ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا امن افغانستان سے ہی وابستہ ہے ،موجودہ حکمران عوامی مسائل سے لاتعلق اور مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کررہے ہیں ،جماعت اسلامی کو موقع ملا تو ملک کی ہر خاتون کو وراثت میں اس کا حق ہر صورت دیا جائے گا ۔ سراج الحق نے کہاکہ آج یہاں موجود نوجوانوں کا سمندر، بزرگوں کا وقاراور ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا حوصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ قوم ایک نئے عزم کے ساتھ اُٹھی ہے اور جب قوم اُٹھ جائے تو تاریخ کا رخ موڑتی ہے ، وہ وقت ضرور آئے گاجب پاکستان میں بھی جاگیرداروں، وڈیروں اور خانوں کی اجارہ داری کا باب ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا۔ لیاقت بلوچ نے خطاب میں کہا کہ پورا ملک زخمی ہے ، اسٹیبلشمنٹ کا ڈاکٹرائن ناکام ہو چکا ، ان کے تجربات نے معیشت کو تباہ کیا،انقلاب دو راہے پر کھڑا ہے ،طویل جدوجہد کی ضرورت ہے ،فیڈریشن میں مضبوط اکائیوں کا حق تسلیم کیا جائے ،شریف اور زرداری خاندان کی سیاست دفن ہو رہی ہے ،اگر اس ذہنی اذیت سے نجات حاصل کرنی ہے تو جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہو گا ۔ ڈاکٹر طارق امین نے کہا کہ عوام امن و امان اور اور مہنگائی سے دوچار ہیں ،پنجاب کو حافظ نعیم کے بدل دو نظام میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنا ہے ۔کاشف سعید شیخ نے کہا کہ سندھ کا کیس مینار پاکستان کے سائے تلے پیش کرنے آیا ہوں ،آج بھی صوبہ سندھ میں پسماندگی ہے ،نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ،ایسے میں لوگ ڈاکو نہیں بنیں گے تو اور کیا ہو گا ،بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے ذریعے لوگوں بھکاری بنایا جا رہا ہے ۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ پاکستان کیلئے قربانی دینے والے بلوچستان کے ساتھ ریاست نے کیا کیا،آج بلوچستان میں ریاست کی رٹ صرف چھ گھنٹے ہوتی ہے ،ہمیں بھارت کا ایجنٹ کہا جاتا ہے ،تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے ،افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدیں کھولی جائیں۔ عبدالرزاق عباسی نے قراراداد پیش کرتے کہا کہ پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن)اور عمران خان نے ہزارہ کے لوگوں کو دھوکہ دیا ، ہزارہ کو صوبہ بنایا جائے ۔ سید ذیشان اختر نے کہا کہ جنوبی پنجاب محرومیوں کی تصویر بنا ہوا ہے ،چولستان میں آج انسان اور حیوان ایک ساتھ پانی پینے پر مجبور ہیں،بہاولپوراور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا جائے ۔ضیاء الدین انصاری نے کہا کہ شریف فیملی ہر انتخاب میں کہتی ہے ایک موقع اور دو،لیکن لاہور میں امن و امان کی صورتحال انتہائی نا گفتہ بہ ہے ،قتل و غارت بڑھتی جا رہی ہے ،بزنس مینوں کو کو ئی تحفظ حاصل نہیں ۔
جماعت اسلامی کا 26اور 27ویں ترامیم کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان ٹی ایل پی پر پابندی ہونی چاہئے نہ سیاسی بنیاد پر عمران کو جیل میں رکھیں :حافظ نعیم مقامی حکومتوں کواختیارات دئیے جائیں، جلسے ، دھرنے دینگے : اجتماع سے خطاب

Leave a Reply