عشق آباد،اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے افغانستان سے دہشتگردی کا نیا خطرہ سر اٹھانے لگا ہے ، خطرے سے نمٹنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ،عالمی برادری طالبان رجیم پر دبائو ڈالے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرائیں ۔پاکستان فلسطینی عوام اور بہادرکشمیریوں کے بنیادی حق خوارادیت کیلئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات کو دنیا کیلئے بڑے چیلنجز قراردیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا جدید ٹیکنالوجی تک سب کیلئے منصفانہ اور بلا امتیاز رسائی ناگزیر ہے ،سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے ،موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے ترقی پذیر ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے ، تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے ،پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد ، عالمی دن برائے غیر جانبداری اور ترکمانستان کی تیس سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا اگرچہ یہ ترکمانستان کا میرا پہلا دورہ ہے لیکن میں اپنے آپ کو یہاں قطعا اجنبی محسوس نہیں کررہا،ترکمانستان کے قومی رہنما قربان گلی بردی محمدوف اور صدرسردار بردی محمدوف میرے لئے بھائیوں جیسے ہیں ،پاکستان اور ترکمانستان کی دوستی کو مضبوط بنانے میں ان کا اہم کردار ہے ۔وزیراعظم نے کہا ترکمانستان کی قیادت کو مستقل غیر جانبداری کے 30 سال مکمل ہونے اور 2025کو اقوام متحدہ کی طرف سے امن و اعتمادکا سال قرار دینے کی کامیاب کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان نے رواں سال سلامتی کونسل میں غیرمستقل رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان بھرپور کردار ادا کر رہا ہے ، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں ۔
افغانستان سے دہشتگردی کا نیا خطرہ سراٹھانے لگا:عالمی برادری طالبان پر دباؤ ڈالے: شہباز شریف دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے کوششیں کی جار ہیں ،تنازعات کا پرامن حل پاکستانی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ، مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی ،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ضروری موسمیاتی تبدیلی، غربت ، عدم مساوات دنیا کیلئے بڑے چیلنجز ، عشق آباد عالمی فورم سے خطاب ،روس ، ترکیہ ،ایران ، تاجک ،کرغز صدور سے ملاقاتیں ، یادگار غیرجانبداری کا دورہ ،پھول چڑھائے

Leave a Reply