کراچی:فلور ملز ایسوسی ایشن نے کراچی پریس کلب میں ہنگامی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کی گندم پالیسی اور سبسڈی نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اربوں روپے کی سرکاری سبسڈی کا فائدہ عوام کے بجائے مخصوص ٹریڈرز تک پہنچ رہا ہے جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتیں بڑھنے اور ماہِ رمضان میں 100 فیصد قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن عبدالجنید نے کہا کہ سندھ حکومت نے گندم کی100 کلو بوری کے سرکاری نرخ 8 ہزار روپے مقرر کررکھے ہیں تاہم عملی طور پر یہی گندم حکومتی سرپرستی میں من پسند ٹریڈرز کو فراہم کی جا رہی ہے جو بعد ازاں فلور ملز مالکان کو یہی بوری 9 ہزار 500 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔چیئرمین کے مطابق کراچی سے کشمور تک عوام کے بجائے صوبائی حکومت کے من پسند ٹریڈر کو سبسڈی کا فائدہ پہنچایا جا رہا ہے جبکہ فلور ملز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ، اس سنگین صورتحال پر وزیر اعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا گیامگرکوئی جواب موصول نہیں ہوا۔گر سندھ حکومت نے ٹریڈرز مافیا کو نہ روکا تو آئندہ 48گھنٹوں میں لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ماہ رمضان میں آٹے کی قلت، قیمتیں بڑھنے کا خدشہ سندھ حکومت کے من پسند ٹریڈر سبسڈی کا فائدہ اٹھارہے ،فلور ملز نظر انداز ٹریڈرز مافیا کو نہ روکا تو48گھنٹوں میں لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ،عبدالجنید

Leave a Reply